خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 552

552 لئے ایسے رؤساء اور معززین کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سالوں کی نسبت بہت زیادہ مکان مہیا کئے جائیں۔جن جن کے پاس مکان ہیں۔جہاں تک ممکن ہو سکے۔خود وہ قلیل سے قلیل تنگ جگہ میں گزارہ کریں اور باقی حصہ مہمانوں کے لئے خالی کر دیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان مکانوں کو برکت دے۔اور ان کو وسیع کرے۔میں یہ اعلان بھی کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض بعض گاؤں میں شدید طاعون ہے۔پس جہاں کہیں ایسی طاعون جارف اور شدید ہو۔وہ اس جلسہ میں شریک نہ ہوں (اکا دکا آدمی کا مرنا وبا نہیں کہلا تا ) اگر کہیں ایسی بیماری ہو کہ ایک آدھ آدمی مرتا ہو۔تو وہاں کے دوستوں کو میں نہیں روکتا کیونکہ شریعت کا حکم ہے کہ جہاں دیا ہو۔وہاں سے نکل کر دوسری جگہ نہیں جانا چاہیئے۔اس لئے ان کا جلسہ میں آنا گناہ ہو گا اور ایک گناہ دوسری نیکی کا جاذب نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ رسول کریم کا حکم ہے کہ ایسے مقامات کے لوگ گھر سے نکل کر باہر میدانوں میں ہو جائیں اور وہاں اپنے مکان اور رہائش کا انتظام کریں کیونکہ حضرت مسیح موعود نے گھر سے باہر نکلنے کے حکم کو حضرت نبی کریم کی طرف منسوب کیا ہے۔اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ حضرت صاحب نے الہام الہی سے فرمایا ہے۔گو حدیث شریف سے بھی استدلال ہو سکتا ہے۔جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے۔اتقوا مواضع الفتن لیکن اگر حدیث نہ بھی ہو جس میں کوئی ایسی تفصیل معلوم ہو سکے۔تو میں بخاری مسلم کی حد یشوں سے حضرت مسیح موعود کی حدیث کو بہت زیادہ معتبر اور یقینی سمجھتا ہوں۔کیونکہ بخاری مسلم تو ایک حدیث رادیوں کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود براہ راست حضرت نبی کریم سے حدیث بیان کرتے ہیں پس حضرت صاحب نے جو بغیر حوالہ دینے کے اس حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے۔تو اس لئے کہ آپ کو الہام الہی سے آنحضرت کی اس حدیث پر مطلع کیا گیا ہے۔پس جہاں اس قسم کی شدید طاعون ہو۔ایسے لوگوں کو الهام اللی کی یقینی خبر کی بناء پر گھر سے باہر ہو جانا چاہیئے جہاں کھلی ہوا اور دھوپ لگتی ہو۔کارکنوں کو چاہیے کہ وہ مہمانوں کی عزت اور ان کے احترام کا پورا خیال رکھیں۔اور کسی امر کو جو مہمان کے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔ہتک اور بے عزتی نہ سمجھیں۔بلکہ اپنے خیال میں جس بات کو وہ ہتک اور بے عزتی خیال کرتے ہیں۔مہمان نوازی میں اس کو بھی برداشت کریں۔بے عزتی کے بھی بہت غلط معنے سمجھ لئے گئے ہیں۔ایک باپ اگر بیٹے کو مارتا ہے اور وہ خاموشی سے مار کھاتا اور برداشت کرتا ہے تو یہ اس کی بے عزتی نہیں۔اس کی عزت ہے۔بے عزتی اس کی اس میں ہے کہ باپ اس کو مارنے لگے۔تو وہ بھاگ جائے یا مقابلہ کرے اسی طرح آپ مہمانوں کا احترام مد نظر