خطبات محمود (جلد 8) — Page 548
548 طرف سے تکلیفیں پہنچنے والی ہیں ان کو ٹھوکر لگنے والی ہے یا ان کے تعلقات میں کمی واقعہ ہونے والی ہے۔جن کا جانے سے پہلے بعض رؤیا کے ذریعے مجھے علم دیا گیا تھا۔بعض کے نام بھی بتائے گئے ہیں۔مگر میں ان کو ظاہر نہیں کرتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ ان کو ٹلا بھی سکتا ہے اور بعض نہیں بھی ملتے۔جیسا کہ میں نے دعا کی تو جواب قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتي لله رب العالمین ملا جس کے معنے یہ تھے کہ یہ حادثات ملنے والے نہیں۔اور بہت سے مل بھی جاتے ہیں۔پس وہ ابتلا جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو ٹال دے اور ان کے ایمانوں کو سلامت رکھے اور ان کا ظاہر بھی محفوظ رہے۔اور ان کا باطن بھی اور میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر وہ ابتلا آئیں تو پھر وہ اور بھی زیادہ سلسلہ کو عزت دے گا۔اور ایسی برکات نازل کرے گا۔جو شفاء لما فی الصدور ہوں۔ایک اور بات جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی مرحومہ کے ذکر میں ایک فقرہ کہا تھا کہ ایک رنگ میں آپ کی والدہ بھی ہیں۔جس سے بعض دوستوں کو غلط فہمی ہوتی ہے۔اور انہوں نے میری بیویوں کی نسبت ام المومنین کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔اس خیال سے کہ کسی کے لئے یہ امر ٹھوکر کا موجب نہ بن جائے۔میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ام المومنین کا خطاب صرف انبیاء کی بیویوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے بعض محاورے خاص ہوتے ہیں۔جن کو عام نہیں کیا جا سکتا پس ام المومنین کا لفظ محاورہ کے طور پر صرف ان ہی کے ساتھ خصوصیت رکھتا ہے۔ہاں مشابہت اور تعلق کی وجہ سے ایک خاص محاورہ کو دوسرے معنے کے لئے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔جیسا کہ ایک استاد کی بیوی کو ماں کہا جاتا ہے۔مگر ماں والے احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے۔چونکہ استاد بھی ہمدردی محبت اور ربوبیت کی وجہ سے حقیقی باپ کی ابوت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پس وہ ایک رنگ میں باپ کا درجہ رکھتا ہے۔پس بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ایک خاص مقام پر جا کر استعمال کئے جاتے ہیں۔اس سے پہلے ان کا استعمال جائز نہیں ہوتا۔جیسا کہ ایک شخص جس کے پاس ایک پیسہ یا پانچ سات روپے ہوں۔ہم کہتے ہیں کہ اس کے پاس مال ہے لیکن ہم اس کو مالدار نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ یہ ایک ایسا محاورہ ہو گیا ہے کہ ایک خاص مقدار پر پہنچ کر اس کا استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح ام المومنین کا لفظ انبیاء کی بیویوں کے ساتھ ہی خصوصیت رکھتا ہے۔اور یہ مرتبہ انبیاء سے قرب اور تعلق کی وجہ سے ان کو دیا جاتا ہے۔کیونکہ جب خاوند ایک عزت اور مرتبہ حاصل کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کی