خطبات محمود (جلد 8) — Page 541
541 84 موت اور مصائب کی حکمت خطبه جمعه فرموده ۱۹ دسمبر ۱۹۲۴ء) مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : میں آج خطبہ جمعہ میں کسی ایک مضمون پر نہیں۔بلکہ بہت سے مضمونوں کے متعلق بعض باتیں کہنے والا ہوں۔سب سے پہلے میں اس امر کی طرف دوستوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خدا کے دین اور اس کے پاک سلسلوں کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے سے ایسی برکات نازل ہوتی ہیں کہ ان سے بڑے بڑے مصائب اور بڑی بڑی مشکلات مختلف رنگوں میں رحمتوں اور برکتوں کا موجب ہو جاتی ہیں۔اگر ہم غور سے دیکھیں۔تو دنیا کا ہر ایک فعل اور قانون قدرت کے ہر ایک امر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر خرابی ایک بڑی ترقی کا اور ہر تباہی ایک بڑی آبادی کا موجب بن جاتی ہے۔انسان عمدہ سے عمدہ غذائیں کھاتا ہے۔اور پھر فضلہ بنا کر خارج کر دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ گویا وہ ضائع ہو گئی لیکن وہی غذا جس کو اس نے فضلہ سمجھا۔اور ایک ضائع شدہ چیز خیال کیا وہی کھاد بن کر ایک نئی پیدائش کا موجب بن جاتی ہے اور اس غلہ سے بہت زیادہ غلہ پیدا ہوتا ہے۔جو کہ کھاد کے تیار کرنے میں صرف ہوا۔اسی طرح انسانوں کی موتیں بھی در حقیقت اگر فکر اور نظر سے کام لیا جاوے تو وہ بھی کسی کام آتی ہے۔اور وہ بھی دنیا کی ترقیات کے لئے کھاد کا کام دیتی ہیں۔انسانی قوئی خواہ کتنے ہی مضبوط ہوں اور انسانی عمر میں خواہ کتنی ہی لمبی ہوں۔مگر وہ ایک حد تک جا کر ختم ہو جاتی ہیں۔اور پھر انسان کی ساری قوتیں اور طاقتیں صنعف اور کمزوری کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔و من نعمره تنكسه في الخلق یسین (۶۹) جب انسان ترقی کرتے کرتے ایک حد تک پہنچ جاتا ہے۔تو اس کی دماغی قوت مضمحل ہو جاتی ہے۔وہی انسان جو بڑا عقلمند اور مدبر سمجھا جاتا تھا۔وہی انسان پھرپاگل