خطبات محمود (جلد 8) — Page 54
54 جھگڑوں کو بھول جاؤ۔تب ثابت ہو گا کہ تم خدا کے دین کی مدد کرنے کے لئے تیار ہو۔ہمارا مقابلہ تو محکوم لوگوں یا محکوم ریاستوں سے ہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ان سے تھا جو آزاد تھے۔وہ صاحب حکومت تھے مگر انہوں نے رسول کریم صلعم کو کیا نقصان پہنچایا بلکہ جو آپ کو مٹانا چاہتے تھے۔مٹا دئے گئے اور وہ پتھر جس کو معماروں نے رد کیا وہ عمارت کا آخری پتھر ہوا جو اس پر گرا وہ بھی چور چور ہوا اور جس پر وہ گرا وہ بھی چور چور ہوا۔پس تم خدا کی مدد پر بھروسہ کرو۔تم میں سے بعض کے جو آپس میں جھگڑے ہیں ان کو چھوڑ دو۔زبردست دشمن کے مقابلہ میں خدا سے نصرت طلب کرو۔تم اپنا زور لگاؤ۔باقی مدد خدا سے آئے گی۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو صاف کرے اور اپنی محبت سے بھر دے اور ہم میں خدا کے لئے محبت اور اخلاص ہو اور اس کی محبت و اخلاص کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں۔الفضل ۹ر ایریل ۱۹۲۳ء)