خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 508

508 کا دائرہ جزئیات اور تفاصیل میں بڑھتا جاتا ہے۔اسی طرح انسانی پیدائش کی غرض اور مقصد سب کے لئے ایک ہے۔اور سب کے سب اسے پورا کرتے ہیں۔یا پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خواہ کسی نہ کسی رنگ میں ہو۔مگر پھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی غرض اور مقصد مختلف بھی ہے اور اسی اتحاد میں ایک اختلاف نظر آتا ہے۔جس طرح انسانیت میں سب ایک ہیں۔مگر مختلف حیثیتوں میں ایک اختلاف بھی نظر آتا ہے۔جس اختلاف نے بعض کو بعض سے ممتاز کر دیا ہے۔اسی طرح اغراض اور مقاصد میں اختلاف ہو جاتا ہے۔وہ غرض جو سب نوع انسان میں مشترک ہے اور وہ مقصد جس پر سب دنیا کے انسان متحد ہیں۔یہ ہے کہ ہر ایک میں یہ خواہش ہے کہ ترقی کریں اور آرام پائیں۔اس میں سب کے سب متفق ہیں۔ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کو آرام ملے اور وہ ترقی کے انتہائی مقام کو پالے۔مگر باوجود اس ایک مقصد میں سب کے متفق ہونے کے اس آرام اور ترقی کی تفاصیل اس کے حاصل کرنے کے متعلق طریق عمل اور اس کے متعلق خیالات میں ایک وسیع سلسلہ اختلاف کا ہے۔پہلے آرام کی حقیقت ہی میں اختلاف شروع ہو جاتا ہے ایک شخص کام میں مصروف رہنے اور قربانی کرنے کا نام آرام رکھنا ہے۔دوسرا آرام اس کا نام رکھتا ہے۔اور ترقی کا مقصد یہ قرار دیتا ہے۔کہ کسی نہ کسی طرح دوسروں کا روپیہ چھین لے اور صرف لیٹے رہنے اور کام نہ کرنے کا نام آرام کو رکھتا ہے۔غرض مشترک میں ترقی کو بھی میں نے بیان کیا ہے۔لیکن حقیقت میں صرف ایک خوشی ہی ہے۔چونکہ ترقی میں خوشی محصور ہو گئی ہے۔اس لئے ترقی چاہتے ہیں۔ورنہ زیادہ غور کریں۔تو صرف خوشی ہی رہ جاتی ہے۔اس خوشی کے خیال کے ساتھ ترقی کا خیال لازمی ہے۔پھر اس خوشی کے مدارج اور وسائل ہیں۔علم ، وقت زبان کے مزے۔قوت شنوائی کے مزے ہیں۔آنکھ، ناک اور لمس کے مزے ہیں۔پھر ان خواہشوں کے بھی مختلف مدارج ہیں۔غرض خوشی کی ان مختلف خواہشوں کے پورا کرنے کے لئے ترقی کا خیال پیدا ہوتا ہے۔پھر جس چیز کو زیادہ پسند کرتا ہے۔اس کے لئے ترقی کا رنگ اور ہے جس کو کم پسند کرتا ہے۔اس کے لئے اور۔غرض مقصد عظیم یہی نظر آتا ہے کہ خوشی حاصل ہو۔اور آرام ملے۔تفاصیل میں بے حد اختلاف ہے۔اور اس قدر اختلاف ہے کہ دو نہیں ملتے۔ایک کام کرنا چاہتا ہے۔دوسرا بیکار رہنا۔