خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 5

میں نقصان ہوتا ہے۔مگر ادھر خیال نہیں کرتا۔اور اگر مال نہ ملے تو اس کو نقصان سمجھتا ہے حالانکہ کئی مال جو آتے ہیں اپنے ساتھ ایسی ایسی ذمہ داریاں لاتے ہیں جن کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے خدا سے پہلے جو تعلق ہوتا ہے وہ بھی جاتا رہتا ہے۔تو بہت سے فتنے ایک چیز کی غلط اہمیت سمجھنے سے پیدا ہوتے ہیں اور اکثر جھگڑے اسی بات سے پیدا ہوتے ہیں کہ جھوٹی بات کو بڑا سمجھ لیا جاتا ہے۔معمولی معمولی باتوں پر انسان تفرقے ڈال دیتا۔دنگے پیدا کر دیتا ہے یا ذرا ذرا سے مالی فوائد پر اس قدر لڑتا ہے کہ اخلاق بگاڑ لیتا ہے اپنے بھائیوں سے بولنا چھوڑ دیتا ہے حالانکہ اصل زندگی جس کے بغیر عبودیت قائم نہیں رہ سکتی۔اتحاد و اتفاق ہی ہے۔وجہ یہ کہ اللہ کی ایک ذات ہے اور جتنی چیزیں ایک نقطہ کی طرف جائیں گی۔وہ آپس میں قریب ہوتی جائیں گی اور جتنی اس نقطہ سے دور ہوتی جائیں گی۔اتنا ہی ان میں زیادہ بعد ہوتا جائے گا۔ایک نقطہ ڈال کر دیکھ لو خطوط جتنے اس کے قریب ہوتے جائیں گے اتنے ہی آپس میں بھی قریب ہونگے اور جتنے دور ہونگے اتنے ہی زیادہ آپس میں بھی دور ہونگے۔اسی طرح جو اللہ تعالی کے جتنا قریب ہوتا ہے۔اتنا ہی انسانوں سے بھی قریب ہوتا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ ایک نقطہ اور مرکز ہے جس پر سب چیزیں مجتمع ہوتی ہیں۔سب مخلوقات کا منبع خدا کی ذات ہے۔اس لئے وہ نقطہ جس سے ساری لکیریں ملتی ہیں جتنا اس کے کوئی قریب ہو گا اتنا ہی دوسروں سے قریب ہو گا اور جتنا لوگوں سے دور ہو گا اتنا ہی خدا سے دور ہو گا۔اگر تم دیکھو کہ لوگوں سے تمہیں شقاق ہے تو یہ بھی سمجھ لو کہ تم خدا سے بھی دور ہو۔یہ ہو نہیں سکتا کہ تم خدا کے قریب ہو اور بندوں سے دور۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ خدا سے دور ہونے والا تم سے دور ہو۔مگر تم خدا کے قریب ہو کر اس سے دور نہیں ہو سکتے۔ابو جهل بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور تھا۔کیونکہ خدا سے دور تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے دور نہ تھے کیونکہ ابو جہل بھی خدا کا بندہ تھا خواہ کتنا ہی شرارت میں بڑھا ہوا تھا۔قرآن کریم میں جو یہ آتا ہے کہ لعلك باخع نفسك الا يكونوا مؤمنين (الشعراء ۴) تو کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں کے لئے غم کرتے تھے کہ وہ مسلمان نہیں ہوتے۔بلکہ ابو جہل عقبہ شیبہ کے لئے آپ کی یہ حالت تھی۔پس خوب سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی علامت یا ذریعہ۔بنی نوع انسان کی ہمدردی ہے۔خصوصاً ایک مذہب والوں کی ہمدردی تو ایمان کا جزو ہے۔اس کو مد نظر رکھ کر اپنے حرکات و سکنات اقوال و افعال کو اس کے مطابق بناؤ اور پھر دیکھو کہ خدا کے کیسے کیسے فیضان تم پر نازل ہوتے ہیں۔خداتعالی تمہیں اس کی توفیق دے۔(الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۲۳ء)