خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 477

477 پیاس اور بھی زیادہ بڑھ جاوے گی۔اتنے علم سے اسے فائدہ نہیں ہو گا۔پس کامیابی کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے۔وہ اس کے صحیح ذرائع کا حصول ہے۔اور یہ خدا تعالٰی کے فضل اور راہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔اس لئے قرآن مجید نے اهدنا الصراط المستقیم کی تعلیم دی ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بھی پورے طور پر اس کا احساس نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے مان لینا اور اس پر عمل کرنا کافی ہے۔مگر عمل کے لئے جب تک صحیح ذرائع ساتھ نہ ہوں۔وہ عمل بھی ناقص اور بے معنی ہو جائے گا۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ بڑی قربانی کر کے کام کرتے ہیں۔مگر اس میں نقص ہوتا ہے۔اور نتیجہ ناکامی ہوتی ہے۔میں جب اعتراض کرتا ہوں۔تو دوسرے لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو بہت بڑی محنت کرتے ہیں۔صبح سے لے کر رات کے نو بجے تک کام کرتے رہتے ہیں۔میں ان کی محنت کا انکار نہیں کرتا۔لیکن جب تک صحیح ذرائع پاس نہ ہوں گے۔اس محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ہاں جب صحیح ذرائع سے عمل ہو گا تو محنت اور وقت دونوں میں کمی ہو جائے گی۔یہ ضرورت نہیں کہ ایک شخص پندرہ گھنٹہ کام کرے۔مگر نتیجہ کچھ نہ ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کامیابی ہو۔اور اس کے لئے جب تک صحیح ذرائع کو اختیار نہ کیا جائے گا۔کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ان صحیح ذرائع کے حصول کی تعلیم اهدنا الصراط المستقیم کی دعا ہے۔اس بات کو خوب یاد رکھو کہ محض کام کرنا اوقات یا روپیہ کا صرف کر دینا یا احساسات اور جذبات کا قربان کر دینا کافی نہیں ہے۔اور اس سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔اصل چیز جس کے لئے انسان ساری محنتیں اور قربانیاں کرتا ہے۔کامیابی اور حصول مقصد ہے۔اگر وہ حاصل نہیں ہوتا۔تو کیا فائدہ اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ ان اسباب کو حاصل کیا جائے۔جو اس کے لئے ضروری ہیں۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے ملتے ہیں۔اسی کے لئے یہ دعا ہے۔پہلے اصل مقصد کا علم حاصل کر لو۔پھر اس کے صحیح ذرائع حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرو۔اور پھر استقامت کے ساتھ ان ذرائع سے کوشش کرو۔اور یہ عزم کر لو کہ اس مقصد کو حاصل کرنا ہے۔اس کے لئے تھکو نہیں۔اور ہمت نہ ہارو۔ورنہ بغیر صحیح ذرائع کے اصل مقصد دور ہوتا جائے گا۔ایک شخص دن میں پانچ نمازیں پڑھتا ہے۔اور ایک ہندو ہے۔جو رات دن الٹا لٹکا رہتا ہے۔اور ایسی شدید محنت برداشت کرتا ہے کہ تصور سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے مقابلہ میں اس کی محنت اور عمل بہت بڑا ہے۔مگر کیا اس طریق سے خدا مل جاتا ہے؟ خدا کو کسی کے الٹے سیدھے لٹکنے کی ضرورت نہیں اور نہ اس کے اعمال کے ساتھ پاکیزگی اور وہ