خطبات محمود (جلد 8) — Page 47
47 اُحد کے موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ لیا کہ مخالفین سے کس جگہ مقابلہ کیا جائے۔اندر سے یا باہر چل کر۔آپ کا منشاء تھا کہ اندر سے مقابلہ کیا جائے مگر وہ لوگ جو بدر کے موقع پر جہاد میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔چاہتے تھے۔کہ اس موقع پر اپنی بہادری کے جوہر دکھائیں آپ نے ان کی خاطر یہ بات منظور کرلی۔ادھر صحابہ کو خیال ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء مبارک باہر تشریف لے جاکر مقابلہ کا نہ تھا۔اس لئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زرہ پہن کر تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی کہ آپ کا جس طرح منشاء ہو اسی طرح کیا جائے۔بہتر ہے کہ اندر ہی سے مقابلہ ہو۔آپ نے فرمایا۔اب وہ وقت گذر گیا خدا کے نبی زرہ پہن کر پھر نہیں اُتارا کرتے۔حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم ہو گیا تھا کہ آپ کا ایک رشتہ دار شہید ہو گا۔خود آپ کو تکلیف ہوگی مگر آپ نے فرمایا کہ اب زرہ نہیں اتاری جا سکتی بلکہ اب باہر ہی چلنا ہو گا۔پس چونکہ ہم نے بھی ایک کام کا ارادہ کیا ہے اب ہم بھی اس کام سے پیچھے نہیں بہت سکتے۔نہ ستی سے کام لے سکتے ہیں۔اب زمانہ آگیا ہے کہ پورے زور سے ہندوؤں میں تبلیغ کریں تاکہ حضرت اقدس مسیح موعود کے الہامات پورے ہوں جو ہندوؤں کے متعلق ہیں۔جیسے غلام احمد کی جے۔ظاہر ہے کہ مسلمان جے کے نعرے نہیں لگایا کرتے۔اس الہام کا صاف منشاء یہ ہے کہ ہندوؤں کی قوم اسلام میں داخل ہوگی اور وہ اسی طرح جس طرح فاتح کے داخلہ پر اس کی جے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔غلام احمد کی جے کا نعرہ لگائے گی کہ یہی انسان ہے جس نے ہمیں یہ دن دکھایا کہ ہم نے برکات اسلام سے حصہ لیا۔بے شک ملکانوں میں شدھی کا کام رک جائے۔مگر ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کا کام نہیں رک سکتا۔یہ تو حضرت مسیح موعود کے الہامات کے پورے ہونے کا وقت ہے اور ان کے پورا ہونے کی رہ کھلی ہے۔پس ہماری جماعت کو اس کام کے کرنے کے لئے تیار ہونا چاہیے۔جس طرح ہم نے غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے مرکز قائم کیے ہیں۔اسی طرح ضرورت ہے کہ ہندوؤں میں تبلیغ کا مستقل کام کیا جائے۔اور ان کو اسلام میں جذب کیا جائے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس راہ میں مشکلات ہیں اور یہ کام سخت ہے۔مگر جب تک تکالیف اور مشکلات پر غلبہ حاصل نہ کیا جائے۔اس وقت تک کوئی انعام نہیں مل سکتا۔ہمیں چاہیے کہ ہم خدا کے لئے کام کریں اور خدا میں ہو جائیں۔تاہم ہمیشہ کی زندگی پائیں۔ہمیں ان تمام مشکلات کو دور کرنا ہے۔تمام دنیا ایک طرف ہے مگر خدا ہمارے ساتھ ہے۔پھر مومن کیسے ڈر سکتا ہے۔تبلیغ کے کام میں ہم سے پہلے لوگوں نے تلواروں کے سایہ میں بھی سستی نہیں کی۔حضرت عمر کے زمانہ میں جب مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ وہ ہر طرف سے