خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 458

458 شاگردوں نے انہیں امام بنایا مگر مسیح موعود علیہ السلام کی اتھارٹی اور تصرف خدا تعالی کی طرف سے آیا۔تم میں سے کسی نے نہیں دیا اور خدا تعالٰی دئے ہوئے کو واپس نہیں لیا کرتا۔بلکہ قائم رکھتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے آپ کو کہا ہے کہ میں تمہارے ذریعہ نور کو قائم کروں گا۔تمہیں مٹنے نہیں دوں گا۔تیری تعلیم کو دنیا میں قائم کروں گا۔تو اور کون ہے جو اسے مٹا سکے۔پھر فرمایا میں نے خود تجھے قرآن سکھایا۔اور جسے خدا تعالٰی قرآن سکھائے۔اس کے مقابلہ میں اپنی باتیں کس طرح پیش کی جا سکتی ہیں۔پس وہ جس کا استاد خدا ہو۔اس کے مقابلہ میں یہ کہنا کہ ہماری بات سچی ہے۔اس سے زیادہ جہالت اور کیا ہو سکتی ہے۔اگر خدا تعالٰی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نہ بھی کہتا کہ میں خود اسے سکھاتا ہوں تب بھی آپ نبی تھے۔اور آپ کی بات دوسروں پر فوقیت رکھتی تھی۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔میں نے خود تجھے قرآن سکھایا۔پھر آپ زیادہ قرآن کو سمجھ سکتے ہیں یا ہم۔خوب یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود غیر شرعی نبی تھے مگر اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ آپ پہلے قرآن نہیں لائے اور نہ یہ کہنا کہ ہم آپ کی رائے کے خلاف بھی کوئی رائے قائم کر سکتے ہیں۔یہ باطل بات ہے۔یا یہ کہنا کہ شاید کوئی بات آپ نے منسوخ کر دی ہو۔اس لئے آپ کی ہر ایک بات حجت نہیں۔یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس طرح تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی بات منسوخ کر دی ہو۔حضرت مسیح موعود کی تو باتیں لکھی ہوئی موجود ہیں۔حدیثیں تو لکھی ہوئی نہ تھیں۔کوئی کہہ دے ظہر کی چار رکھتیں نہیں۔دو ہیں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دو بعد میں منسوخ کر دی گئی ہوں تو اس کو کیا کہا جا سکتا ہے۔اور ایسے وہموں کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔اس طرح تو جس بات کو چاہا مروڑ لیا۔لیکن یاد رہے کہ علوم کی بنیاد شاید پر نہیں ہوتی۔بلکہ حقیقت پر ہوتی ہے۔یہ چند باتیں ہیں جو میں آج آپ لوگوں کو سنانا چاہتا ہوں۔پہلی تو خوشخبری ہے۔اور دوسری دو توجہ کے قابل امور ہیں۔یاد رکھو جس دن تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ حضرت مسیح موعود سے علیحدہ ہو کر بھی ہم کچھ کر سکتے ہیں۔وہی دن تمہاری تباہی کا دن ہو گا۔اسی لمحہ سے نئے نبی کی ضرورت محسوس ہو گی۔جو آکر نئی جماعت بنائے گا۔اور تم برباد کئے جاؤ گے۔وہی بات سچ ہے جو حضرت مسیح موعود نے کی۔اور جو آپ کے خلاف کوئی دوسرا کے۔وہ غلط ہے اور حضرت مسیح موعود کی وہ باتیں جو موجود ہیں۔انہیں ہم شاید کے ذریعہ رو نہیں کر سکتے۔ہمارے علم بڑھیں گے۔نئی نئی باتیں پیدا ہوں گی مگر ان سب کا بیج حضرت مسیح موعود نے رکھ دیا ہے۔اور سب کچھ اس سے