خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 455

455 کی بات قابل وثوق ہو گی۔اسی کی جس نے خود سنی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت مسیح موعود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کو منسوخ کر سکتے تھے۔یا اآپ نے منسوخ کیا بلکہ یہ کہتے ہیں آپ وہی باتیں کہتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہیں۔لیکن دوسرے جو کہتے ہیں وہ ایک دوسرے سے سنی سنائی کہتے ہیں۔پس سوال مسیح موعود کے تشریعی یا غیر تشریعی نبی ہوے کا نہیں بلکہ راویوں کا سوال ہے کہ کونسا راوی زیادہ مضبوط ہے۔آیا وہ جو دس بیس حدیث میں آتے ہیں اور ایک دوسرے سے سنی سنائی بات بیان کرتے ہیں۔یا وہ جو خدا کا مسیح ہے اور جس نے خدا سے سن کر بات پہنچادی۔اسی طرح قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے- لا يمسه الا المطهرون کہ سوائے پاکیزہ لوگوں کے کوئی اسے چھو نہیں سکتا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لوگ پاکیزہ نہیں وہ ہاتھ نہیں لگا سکتے۔بلکہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے علوم انہی پر کھلتے ہیں۔جو خدا تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں۔اور جو جتنا زیادہ خدا کا مقرب ہو گا اتنے ہی زیادہ اس پر علوم کھلیں گے۔چنانچہ صوفیا جو ظاہری علوم میں معروف نہیں ہوتے۔ان پر ایسے علوم کھولے جاتے ہیں جو مولوی اور عالم کہلانے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتے۔میں محی الدین ابن عربی کی کتابیں پڑھ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ وہ کئی آیتوں کے معنی وہی کرتے ہیں جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تصدیق کی ہے مثلا " تمام مفسرین اس آیت کے کہ و ما ارسلنا من قبلک من رسول و لا نبي الا اذا تمنى القى الشيطن في امنیت (الج ۵۳) یہ معنی کرتے ہیں کہ جب نبی کوئی خواہش کرتا ہے تو شیطان اس میں دخل دے دیتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں یہ معنی صحیح نہیں کیونکہ نبی مس شیطان سے پاک ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ کوئی مفسر اس طرف نہیں گیا۔محی الدین ابن عربی یہی کہتے ہیں کہ نبی اور شیطان کا کیا تعلق۔اسی طرح اور کئی آیات میں نے دیکھی ہیں۔جن کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ ان کے جو معنی ہم کرتے ہیں وہ یورپ کے اثر کی وجہ سے کرتے ہیں۔مگر صوفیا کی آج سے سات سو برس پہلے کی کتابوں میں وہی معنی موجود ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے۔یہی کہ صوفیا کو وہ علوم اور معارف دیئے گئے جو علماء کو حاصل نہ ہوئے۔تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔کہ خدا کا نبی تو مسیح موعود ہو اور قرآن کریم کے علوم آپ سے زیادہ ہم پر کھولے جائیں۔ہمیں اگر کچھ مل سکتا ہے تو فرع کے طور پر مل سکتا ہے۔اس کا پیج مسیح موعود کو ہی ملے گا۔اور کوئی ایک بھی بات ایسی نہیں جس کا بیج ہم کو ملے پھر ہم کس طرح کہہ