خطبات محمود (جلد 8) — Page 454
454 لئے تیار نہ تھے۔ہماری قوم جو ہزاروں سالوں سے حکمران چلی آئی تھی کیا وہ بغیر رسالت کے آپ کی غلامی کے لئے تیار ہو سکتی تھی۔کسی عرب میں اور کیا بات ہو سکتی تھی جو ہم سے خادمیت اور غلامی کا اقرار کرا سکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ آپ بڑے خاندان کے ہوتے مگر آپ کا خاندان کیا تھا۔مکہ کا غریب خاندان تھا۔لیکن جب خدا تعالٰی نے آپ کو رسالت دی تو آپ بڑے بنے آپ کا انکار کفر ہو گیا۔حتی کہ آپ نے فرمایا۔لو کان مومنی و عیسى جبين لما وسعهما الا اتباعی ۴۰ کہ اگر موسیٰ اور عیسی بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی میری غلامی کرتے۔یہ رتبہ اور یہ مرتبہ آپ کو خدا تعالیٰ کے کلام کی وجہ سے ملا۔پس جن پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے۔وہ معمولی انسان نہیں ہوتے بلکہ ان کی ہستیاں دنیا سے جدا ہوتی ہیں اور ان کے لئے خدا تعالیٰ یہاں تک کہتا ہے کہ اگر کوئی میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ان کے ذریعہ حاصل کرو اور ایسے انسان شرعی ہوں۔یا غیر شرعی ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں۔اگر کسی کو غیر شرعی کہتے ہیں تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں لایا۔ورنہ کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا جو شریعت نہ لائے۔ہاں بعض نئی شریعت لاتے ہیں اور بعض پہلی شریعت ہی دوبارہ لاتے ہیں۔پس شرعی نبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے کلام لائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریعی نبی ہیں۔جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ قرآن پہلے لائے اور حضرت مسیح موعود غیر تشریعی نبی ہیں۔تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ پہلے قرآن نہیں لائے۔ورنہ قرآن آپ بھی لائے اگر نہ لائے تھے تو خدا تعالیٰ نے کیوں کہا کہ اسے قرآن دے کر کھڑا کیا گیا ہے۔پس اگر مسائل کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے۔تو پھر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو کیوں بھیجا۔کوئی ڈپٹی اس لئے مقرر نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنے آپ کو ڈپٹی منوائے کوئی تحصیلدار اس لئے نہیں بنایا جاتا کہ وہ اپنے آپ کو تحصیلدار منوائے۔ڈپٹی اور تحصیلدار کے معنی ہی یہ ہیں کہ کوئی کام ان کے سپرد کیا گیا ہے۔اسی طرح جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں خدا کا نبی ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس کے سپرد کوئی کام بھی کیا ہے اور کام یہی ہوتا ہے کہ یا تو جدید شریعت پر عمل کرائے یا پہلی شریعت کو قائم کرے۔پس وہ جو وہ دیتے ہیں۔اس سے ذرا بھر بھی ادھر ادھر ہونا جائز نہیں ہوتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود بڑی وضاحت سے فرماتے ہیں۔مولوی لوگ حدیثیں لئے پھرتے ہیں۔مگر حدیثوں کا یہ کام نہیں کہ میرے متعلق فیصلہ کریں بلکہ میرا کام ہے کہ میں بتاؤں۔فلاں حدیث درست ہے اور فلاں غلط۔تم ہی بتاؤ۔ایک شخص کسی کے منہ سے کوئی بات سنے اور دوسرا کسی اور کے ذریعہ بنے تو کس