خطبات محمود (جلد 8) — Page 433
433 کلام کرتی ہے وہ انسان ترقی کرتا کرتا اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس وقت جب وہ لقمہ اٹھاتا ہے تو کانٹے کی طرح اس کے حلق میں پھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کیا میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس وقت دیکھتا ہے کہ خدا تعالٰی آکر کہتا ہے۔کلو او اثر ہوا ان الفاظ کو سنکر وہ سمجھتا ہے۔خدا تعالیٰ کی توحید حکم دے رہی ہے کہ میں کھاؤں۔تب وہ کھاتا ہے۔اسی طرح جب وہ لباس پہنے لگتا ہے۔تو نفس سے سوال کرتا ہے۔کیا ستر ڈھانکنے کے لئے تو کپڑے کا محتاج ہے۔اور کیا الیس الله بکاف عبده (الزمر ۳۷) کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔تب وہ کہتا ہے کہ میں کپڑے کا محتاج نہیں ہوں۔میں خدا ہی کا محتاج ہوں۔اس وقت خدا اس کلام کے ذریعہ اس سے بولتا ہے کہ خذو از ینتکم (الاعراف ۳۲) اور وہ سمجھتا ہے۔خدا تعالی کی توحید مجھے کہتی ہے کہ کپڑا پہنوں تب وہ پہنتا ہے۔اسی طرح ہر ایک ضرورت وہ اپنی پوری کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود" ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔فرماتے ایک بزرگ تھے۔وہ ایک اور بزرگ کو جو دریا کے پار رہا کرتے تھے روز کھانا دینے جایا کرتے ایک دن بیمار ہو گئے۔انہوں نے اپنی بیوی سے کہا آج تم کھانا پکا کر دریا کے پار فلاں بزرگ کے پاس لے جانا اور اسے کھلانا اس نے کہا۔دریا سے کسی طرح گزروں گی۔انہوں نے کہا دریا پر جا کر کہنا۔اے دریا فلاں (اپنا نام بتا کر) آدمی کی خاطر جس نے کبھی اپنی بیوی سے صحبت نہیں کی۔مجھے رستہ دے دے۔اس نے کہا۔یہ تو جھوٹ ہے۔اتنے بچے موجود ہیں۔اور تم کہتے ہو کبھی صحبت نہیں کی۔انہوں نے کہا تمہیں کیا تم اس طرح کہہ دینا۔تمہیں رستہ مل جائے گا۔اس نے جا کر اسی طرح کہا۔تھوڑی دیر بعد ایک کشتی آگئی۔اور وہ سوار ہو کر دریا سے پار ہو گئی۔کھانا کھلانے کے بعد کہنے لگی۔میں نے آنے کے وقت تو دعا سیکھ لی تھی۔اب کیا کروں۔کیونکر پار اتروں۔بزرگ نے کہا۔یہ معمولی بات ہے۔دریا پر جا کر کہنا۔مجھے اس شخص کی خاطر اپنا نام بتا کر) رستہ دیدے۔جس نے کبھی اپنے منہ میں ایک دانہ بھی نہیں ڈالا (حالانکہ ابھی ابھی اس کے سامنے کھانا کھا چکے تھے) اس نے کہا۔یہ جھوٹ ہے۔کہنے لگے تمہیں کیا۔تم اسی طرح کہنا۔اس نے جا کر کہا۔کشتی آگئی اور وہ پار اتر گئی۔گھر جا کر اس نے اپنے خاوند سے کہا۔آج دو جھوٹوں کے ذریعہ دعا قبول ہوتی دیکھی ہے۔اس کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا۔بات یہ ہے کہ نہ ہم نے کبھی نفس کی خاطر صحبت کی اور نہ انہوں نے کبھی نفس کے لئے کھانا کھایا ہم نے تعلق رکھا، تو اس لئے کہ خدا نے کہا۔اور انہوں نے کچھ کھایا تو اس لئے کہ خدا نے حکم دیا۔پس نہیں کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فعل نہیں ہوا بلکہ یہ کہ اپنی خواہش اور لذت اس میں نہ تھی۔تو کامل توحید اس وقت