خطبات محمود (جلد 8) — Page 42
42 8 ہندوؤں کو دعوت الی اللہ (فرموده ۱۶ مارچ ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔پہلے تو میں اس موجودہ شورش کے متعلق اس تار کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو وفد کی طرف سے آئی ہے کہ وہ خیریت سے پہنچ گئے ہیں۔اور اخبارات میں جو یہ تار شائع ہوا ہے کہ راجپوتوں نے جلسہ کر کے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مسلمان ہی رہیں گے اس کی تصدیق معلوم ہوتی ہے۔اس خبر کے یہ معنے نہیں کہ فتنہ ارتداد رک گیا ہے بلکہ اس کام کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ وہ قوم جو اسلام چھوڑ رہی تھی۔جب یہ شورش پیدا ہوئی تو اس کو خیال ہوا کہ یہ بات معمولی نہیں۔میں نے کہا تھا کہ جب وہاں شدھی ہو رہی تھی اور کچھ مسلمان ان کو سمجھانے کے لئے جانے لگے تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ ہم مار ڈالیں گے۔اس وقت اگر وہ لوگ نہ رکتے۔ان کو جاکر سمجھاتے اور اگر ایک آدھ مارا بھی جاتا تو ان کو ضرور ادھر توجہ ہوتی کہ کچھ تو بات ہے جس کے لئے یہ جان دیتے ہیں۔ان کو معلوم ہو جاتا کہ ہمارا کفر کی طرف جانا معمولی بات نہیں۔بہر حال وہ رک گئے ہیں۔پہلے وہ ایک جوش کی حالت میں جا رہے تھے۔لیکن اب اس حالت میں تھوڑا سا وقفہ پیدا ہو گیا ہے۔اب جو شخص مذہب تبدیل کرے گا وہ پکا ہو گا۔چنانچہ یہ بھی خبر ہے کہ چھ گاؤں اور تبدیل مذہب کے لئے تیار ہیں۔اب جو مذہب بدلیں گے وہ پکے ہو کر بدلیں گے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ آئندہ مقابلہ سخت ہو گا۔بہر حال وہ جو اندھا دھند تبدیل مذہب پر آمادہ تھے۔اب اس میں ایک روک پیدا ہو گئی ہے۔یہ ایک خوش خبری ہے۔دوسری خبر جو ہمارے لئے خوش خبری اور دشمن کے لئے عذاب ہے۔یہ ہے کہ ہمارے مبلغ افغانستان کا خط آیا ہے کہ خوست کا وہ گورنر جس نے بے قصور ہمارے بھائیوں کو پکڑا اور ہزاروں روپیہ وصول کر کے بھی ان کو نہ چھوڑا اور ہتھکڑیاں ڈال کر مچھر میں تشہیر کی تھی۔اس کو امیر کے حکم سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس کو تمام علاقہ میں تشہیر کیا جائے گا اور رعایا سے پوچھا جائے گا کہ اس