خطبات محمود (جلد 8) — Page 4
4 معمولی معلوم ہوں گے۔اگر اس طرح تم اپنے گذشتہ سال پر غور کرو گے اور سوچو گے تو آئندہ کے لئے تمہیں بہت مدد مل جائے گی اور تم اپنی زندگی کو بہت زیادہ کار آمد بنا سکو گے بہت لوگ ہیں۔جو معمولی معمولی شخصی فوائد پر جھگڑے پیدا کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اگر یوں نہ ہوا جس طرح ہم چاہتے ہیں تو اندھیرا ہو جائے گا۔وہ اس وقت اپنے اور اپنے دوستوں کی زندگی کا مدار اسی پر سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں تو بھی میں یقین دلاتا ہوں کہ زندہ رہ سکیں بلکہ زیادہ عمدگی سے زندگی بسر کر سکیں۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس وقت یہ نہیں سمجھا جاتا اور پیچھے یہ معلوم ہوتا ہے۔پس تم لوگ ایک تو پچھلے سال پر غور کرو کہ اس میں تم نے شخصی اور ذاتی فوائد کے لئے جو اسلام کے فوائد کو قربان کیا اگر نہ کرتے تو آج دنیا میں اس سے بہتر زندگی بسر کرتے یا نہ۔جیسی کر رہے ہو۔اگر اس بات پر غور کرو گے تو اگلے سال کے لئے تمہیں طاقت اور مدد مل جائے گی اور تم ذاتی اور نفسانی فوائد کو اسلام کے فوائد پر بآسانی قربان کر سکو گے۔بے شک ایک آدھ دفعہ اس بات پر غور کرنے سے فائدہ نہ ہو گا مگر بار بار غور کرنے سے ضرور فائدہ ہوگا۔اب رہا۔آئندہ کا پروگرام۔مسلم اور غیر مسلم میں یہی فرق ہے کہ غیر مسلم کو سوچنا پڑتا ہے کہ آئندہ کیا کرے لیکن مسلم کے لئے پروگرام مقرر ہے صرف اس کی تفصیلیں طے کرنا باقی ہوتی ہیں۔اور وہ پروگرام یہ ہے وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون (الذاریت ۵۷) خدا تعالی فرماتا ہے میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میرے عبد بن جائیں۔پس چونکہ مسلم کا پروگرام یہی ہے کہ اللہ کا بندہ بنے۔اس لئے تم آئندہ کا پروگرام میں بناؤ کہ خدا کا بندہ بن کر دکھاتا ہے اس بندہ کے لئے بہت سے کام ہوتے ہیں۔ان فرائض کی تفصیل اس مضمون کو واضح کر سکتی ہے۔مگر میں نے بتایا ہے آج مجھے بولنے کی طاقت نہیں اور وقت بھی زیادہ ہو گیا ہے۔مگر میں تاکید کرتا ہوں کہ ایک نکتہ کو مد نظر رکھنا۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے رمضان میں انسان کو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ اب کے میں یہ عیب ضرور چھوڑ دوں گا اور اس طرح عیوب کو چھوڑتے جانا چاہیے۔اس سال مثلاً ہماری جماعت یہ بات سامنے رکھ لے کہ جماعت میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنا ہے۔یہ جن اسباب اور ذرائع سے پیدا ہوتا ہے ہر ایک احمدی ان کو مہیا کرے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔لڑائیاں جھگڑے محض چھوٹے چھوٹے ذاتی فوائد کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر وہ فوائد حاصل نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہوتا مگر انسان سمجھتا ہے کہ بہت نقصان ہوتا ہے حالانکہ بہت کم ایسی باتیں ہیں جن سے نقصان ہوتا ہے اور جن سے نقصان ہوتا ہے ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اور جن میں نہیں ہوتا ان میں جھگڑے پیدا کرتا رہتا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ سے تعلق نہ ہونے