خطبات محمود (جلد 8) — Page 396
396 حاصل کرنے کے لئے بہت سے بزرگ تڑپتے مرگئے لیکن پا نہ سکے۔ایسے ایسے بزرگوں نے اس لیلتہ القدر کا انتظار کیا جن کا اپنا زمانہ لیلتہ القدر ہوتا ہے اور جن کی ہر گھڑی خدا کی عبادت اور اس کی یاد میں کٹتی ہے اور ان کے لئے ہر وقت لیلتہ القدر ہوتی ہے۔پھر ایسے پاک نفس لوگوں نے اس لیلتہ القدر کا انتظار کیا کہ لیلتہ القدر جن کی غلام ہوتی ہے۔اور پھر وہ لوگ اس کا انتظار کرتے ہوئے فوت ہو گئے اور اس کا راستہ دیکھتے دیکھتے دنیا سے گذر گئے جنہیں خدا تعالیٰ کا خاص قرب حاصل تھا۔پھر نہ صرف ایسے ہی لوگ بلکہ صدہا علماء اور مجدد روتے ہوئے دنیا سے گذر گئے۔جو حضرت مسیح موعود کے دیدار کو ترستے رہے لیکن انہوں نے آپ کا چہرہ نہ دیکھا۔مگر تم پر خدا کا خاص فضل اور رحم ہوا کہ خدا نے تمہیں اس لیلتہ القدر کی برکات سے حصہ پانے کا موقع دیا۔لیکن اس لئے نہیں کہ تم نے کوئی ایسے اعمال کئے جو خدا تعالیٰ کو خاص طور پر پسند آئے۔یا تم نے کوئی ایسی قربانی کی۔جو خدا تعالیٰ کے حضور منظور ہوئی۔بلکہ اس لئے اس لیلتہ القدر کی برکات سے حصہ پانے کا موقعہ دیا کہ تم بہت زیادہ تاریکی کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔اس وجہ سے خدا نے تمہاری کمزوریوں پر رحم کیا اور تم کو اس کی برکات سے حصہ دیا تم ایسی تاریکی کے زمانے میں پیدا ہوئے جو بعینہ چاند کی ۲۷ / تاریخ سے بوجہ اپنی تاریکی کے مشابہ ہے۔کیونکہ ۲۷ تاریخ کی ساری رات تاریک ہو جاتی ہے۔اور چاند تمام رات نہیں نکلتا۔پس تمہیں اس تاریک زمانہ میں پیدا ہونے کی وجہ سے لیلتہ القدر کے برکات کے حصول کا موقع ملا۔لیکن میں پوچھتا ہوں۔تم نے ان برکات سے کیا فائدہ اٹھایا۔اگر نہیں اٹھایا اور اس کے لئے کوشش نہیں کی۔مگر رمضان کی ۲۷۔تاریخ کو لیلتہ القدر کی جستجو کرتے ہو تو تمہاری حالت بعینہ اس شخص کی سی ہے جو جواہرات اور اشرفیاں لٹاتا ہے اور کوئلے جمع کرتا ہے بلکہ کوئلوں کی بجائے تنکے۔یہ میں نے اس لئے کہا ہے۔کوئلے پھر بھی کسی کام آجاتے ہیں لیکن تنکے ان سے بھی کم درجہ اور کم مصرف کی چیز ہیں ایسی صورت میں کیا میں تمہیں یہ نہ کہوں کہ اے اس لیلتہ القدر پر خوش ہونے والو! تم نے اصلی لیلتہ القدر کو ضائع کر دیا اور اس کی پروا نہ کی۔بیشک تمہیں دنیاوی ترقی حاصل ہو گی کیونکہ خدا تعالیٰ فرما چکا ہے کہ تمہیں غلبہ حاصل ہو گا۔پس وہ وقت آئے گا اور ضرور آئے گا۔جبکہ تم کو حکومت ملے گی۔تم حاکم ہو گے اور لوگ تمہارے محکوم۔تم لوگوں کے حقوق کا فیصلہ کرو گے اور لوگ تم سے مطالبہ کریں گے۔لیکن وہ ترقیات کا زمانہ اس لیلتہ القدر سے بہتر نہیں ہو گا۔جو حضرت مسیح موعود کی زندگی کی لیلتہ القدر تھی۔یہ وہ رات