خطبات محمود (جلد 8) — Page 385
385 مردہ کو زندہ نہیں کرتا۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک صحابی جابر کو ان کے شہید باپ کے متعلق فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے باپ کو فرمایا کہ کوئی آرزو کرو۔میں اسے قبول کرلوں گا۔اس نے کہا مجھے پھر دنیا میں بھیجا جائے۔تاکہ میں پھر تیرے رستہ میں قتل کیا جاؤں۔اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا۔میرا یہ قانون ہے کہ مرنے کے بعد لوگ دنیا کی طرف لوٹائے نہیں جاتے۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا اپنے اس قانون کو کسی مردہ کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں توڑتا۔لیکن یہ مولوی کہتے ہیں کہ دجال مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اسی طرح دجال کے پرستار خدائی صفات سے بھی زیادہ صفتیں دجال کو دے دیتے ہیں۔یہ بھی ان لوگوں کی نادانی ہے کہ دجال کے مارنے اور زندہ کرنے کو حقیقی معنوں میں سمجھتے ہیں۔اور کہتے ہیں۔وہ جسمانی طور پر مارے گا اور زندہ کرے گا حالانکہ اس سے مراد یہ ہے کہ دجال اس زمین کے جس پر خدا کی عبادت کی جاتی تھی۔ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور اس روحانی آسمان کو جو برکتوں کو نازل کیا کرتا تھا۔پھاڑ دے گا اور وہ دینی علماء جو پہاڑ ہوں گے۔ان کو اپنے ساتھ شامل کرے گا اور جو شامل ہونے سے انکار کریں گے اس کو مٹا دے گا پس جس طرح دجال اپنا کام کرے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ دجال کی شرارت کو باطل کرنے کے لئے مسیح موعود کو بھیجے گا جو آکر زمین و آسمان کو ان کی جگہ پر قائم کر دے گا۔اور اس کے قبضہ سے چھڑا کر اپنے قبضہ میں لائے گا اور دین کو ایسے دلائل سے قائم کرے گا کہ سائنس دان بھی ان کو نہ توڑ سکیں گے پس یہی مطلب ہے نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کا اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود کا کشف اشارہ کر رہا ہے لیکن حیرت ہے کہ مولوی اس پر اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ اگر آپ یہ نہ فرماتے تو محل اعتراض تھا۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے۔معلوم نہیں۔مولویوں کی عقل کو کیا ہو گیا ہے۔اگر کسی کے مرنے کی بلا شرط پیش گوئی کی جائے تو کہتے ہیں کیا خدا کے نبی لوگوں کو مارنے کے لئے آتے ہیں اور اگر شرطیہ پیش گوئی کی جائے۔تو کہتے ہیں کہ پوری نہیں ہوئی۔مثلاً لیکھرام کے متعلق بلا شرط پیشگوئی تھی کہ چھ سال کے عرصہ میں مارا جائے گا اور وہ مارا گیا۔اس پر کہہ دیا گیا کہ سازش سے قتل کرا دیا ہے اور آتھم کے متعلق شرطی پیش گوئی تھی کہ اگر وہ رجوع کرے گا تو بچ جائے گا اس نے اس شرط سے فائدہ اٹھایا اور بیچ گیا۔اس پر کہہ دیا کہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔غرض کہ ان کی حالت