خطبات محمود (جلد 8) — Page 375
375 لیکچر سنے پھر حضرت خلیفہ اول کے درسوں اور وعظوں میں شامل ہوئے اور پھر میرے خطبے اور درسوں کو سنا ہے لیکن باوجود اس کے تم میں ایسا نمایاں تغیر نہیں آتا جس سے یہ معلوم ہو کہ تم کسی امر کے حاصل کرنے کے لئے دیوانے ہو رہے ہو اور سخت بے چین ہو اور تمہیں ایک منٹ بھی چین نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ تمہاری ترقی کی رفتار بہت سست ہے اور تم میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کئی قسم کے عیبوں سے ملوث ہیں تم دیکھو گے کہ کئی ایسے ہوں گے جنہیں غیبت کی عادت ہو گی بہت ایسے ہوں گے جنہیں خیانت کی عادت ہو گی کئی ایسے ہوں گے جنہیں جھوٹ کی عادت ہو گی۔باوجود ان عادات قبیحہ کے پھر وہ مطمئن ہیں یہ نہیں کہ وہ عادات قبیحہ کو ترک کر دیں اور اپنے اندر ایک نمایاں فرق پیدا کر لیں۔اور اس کوشش میں لگے رہیں کہ اپنے آپ کو خدا تعالٰی کی صفات کا جلوہ گاہ بنا ئیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ فوراً تغیر آجائے۔صحابہ میں بھی تغیر فوراً نہیں ہوا تھا۔بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ بے اطمینانی اور بے چینی کا پیدا ہونا اصلاح کے لئے نہایت ضروری ہے۔اور مومن کو اپنی اصلاح کے لئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہیئے۔دیکھو کڑوی دوا انسان کی طبیعت میں گھبراہٹ پیدا کر دیتی ہے۔لیکن وہی کڑواہٹ بیماری کو دور کر دیتی ہے۔بیماروں کو بحران پڑتا ہے۔جس کے متعلق طبیب کہتے ہیں کہ یا تو بیمار مر گیا یا بچ گیا پس اس وقت بیمار کی بے چینی اس کی حالت کو اکثر اوقات اچھا بنا دیتی ہے۔اور وہ تندرست ہو جاتا ہے۔تم میں خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے بے چینی بے اطمینانی اور گھبراہٹ پیدا ہو جانی چاہیئے۔تاکہ تمہارا علاج جلدی ہو سکے۔اور تمہیں جلد شفا حاصل ہو جائے۔وہ مریض کیسے شفا پا سکتا ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ بیمار ہے اور اگر اس کو لوگ کہتے ہیں کہ تم اپنا علاج کرو تاکہ تم تندرست ہو جاؤ۔تو وہ ڈانٹ کر جواب دیتا ہے کہ تم غلط کہتے ہو۔میں تندرست ہوں۔ایسے مریض کا جانبر ہونا نہایت ہی مشکل ہے۔ڈاکٹر کو وہی مریض تلاش کرے گا جسے اپنے بیمار ہونے کا احساس ہو گا اور اپنی بیماری کے متعلق جس کو بے چینی اور بے اطمینانی ہوگی۔پس تم اپنے اندر بے اطمینانی اور بے چینی پیدا کرو۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے تم کو کتنے ہی خطبے ایسے سنائے ہیں کہ اگر تم ان پر عمل کرتے اور تم میں ان پر کاربند ہونے کی گھبراہٹ ہوتی تو تم ضرور اپنی کمزوریوں کا علاج کر لیتے اور اپنے غرض کو حاصل کر لیتے۔لیکن افسوس کہ تم میں سے بہتوں نے ان خطبوں ان وعظوں ان