خطبات محمود (جلد 8) — Page 362
362۔اس طرح ہے جیسے کوئی زخمی کہے کہ میں ڈاکٹر سے اپریشن اس لئے نہیں کراتا کہ مجھے تکلیف ہوتی ہے یا جس کو بخار ہو وہ کہے میں کونین اس لئے نہیں کھاتا کہ کڑوی ہے۔حالانکہ اپریشن کی تکلیف ہی زخم سے گندہ مواد کو خارج کرتی اور کونین کی کڑواہٹ ہی ملیریا کے کیڑوں کو مارتی ہے پس جبکہ روزہ ہے ہی اس لئے کہ تمہارے جسموں کو اس بات کے لئے تیار کیا جائے کہ تم ان تکالیف کو برداشت کر سکو۔جو کبھی خدا کے راستہ میں تمہیں برداشت کرنی پڑیں تو پھر یہ کہنا کس قدر نادانی ہے کہ ہم اس لئے روزہ نہیں رکھ سکتے کہ تکلیف ہوتی ہے۔اگر اب تم اس قدر بھی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے۔تو کس طرح امید کی جا سکتی ہے کہ جب کبھی اسلام کے لئے کوئی بڑی تکلیف اٹھانے کا موقع آئے۔اس وقت تم اٹھا سکو گے۔اگر اس طرح اپنے آپ کو عادی نہ بناؤ گے تو ضرورت کے وقت قطعاً کام نہ آسکو گے۔دیکھو کسی بات کے عادی نہ ہونے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے اب اگر کسی کو تھوڑے سے فاصلہ پر بھیجا جاتا ہے۔تو وہ ٹمٹم تلاش کرنے لگ جاتا ہے۔اور بعض دفعہ کہہ دیتا ہے۔کہ میں اس وقت اس لئے نہیں جا سکا کہ کوئی ثم تم نہیں ملی۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت صحابہ ساتھ ساٹھ میل کا سفر پیدل کرتے تھے۔اس وجہ سے میں یہ نہیں کہتا کہ ان میں زیادہ اخلاص تھا اور تم میں کم ہے اور نہ میں نے اخلاص کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ بات کہی ہے۔بلکہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم چونکہ پیدل سفر کرنے کے عادی نہیں ہو۔اس لئے نہیں کر سکتے اور وہ چونکہ عادی تھے۔اس لئے لمبے لمبے سفر پیدل کیا کرتے تھے۔یہی حالت سب کاموں میں ہوتی ہے۔جو آدمی بھوک کی تکلیف برداشت کرنے کا عادی نہیں ہوتا۔اس کو اگر کہیں فاقہ آ جائے تو گھبرا جاتا ہے۔اکثر دفعہ جب میں باہر جاتا ہوں جس کی غرض بالعموم یہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو قابل مشقت بنایا جائے تو کچھ ایسے لوگ میرے ساتھ جاتے ہیں جو سفری تکالیف کے عادی نہیں ہوتے جنہیں گھر کی طرح آرام نہیں ملتا۔وہ گھبرا جاتے ہیں۔اور عادی نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف برداشت نہیں کر سکتے۔ہاں جو میرے ساتھ سفر میں رہ چکے ہوں۔وہ کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر نہیں کرتے۔پس رمضان ہم کو عادی بتاتا ہے ایک اہم امر کے لئے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی موقعہ ایسا آجائے کہ دین کے لئے بھوکا رہنا پڑے۔تو ہم چھ چھ ماہ تک بھی بھوکے رہ سکیں۔لیکن جو عادی نہیں ہوتے۔وہ گھبرا جاتے ہیں۔دیکھو جو لوگ بچپن میں نماز کے عادی نہیں ہوتے۔وہ بڑے ہو کر نماز کے نام سے بھاگتے ہیں اور اگر نماز پڑہنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو اس عمدگی سے ادا نہیں کر سکتے۔جس طرح بچپن سے پڑہنے والے