خطبات محمود (جلد 8) — Page 36
36 غرض یہ تھی کہ اس پر اثر ہو۔بہر حال جب ان کی سب کوششیں بے سود ثابت ہو ئیں تو ان کے رشتہ داروں نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ چلے۔ہمیں اس کے مسلمان ہونے اور مسلمان رہنے پر کوئی اعتراض نہیں۔یہ ہمارا بچہ ہے۔ہمارے پاس رہے۔غرض اس طرح کے قول و قرار کے ساتھ لے گئے مگر جاتے ہی قید کر دیا۔مکان سے باہر نکلنے نہیں دیتے تھے۔اور سختی شروع کر دی۔جس طرح سکھوں کے زمانہ میں کاٹھ مار کر رکھتے تھے۔اسی طرح گویا ان کو گھر میں کاٹھ مار دیا گیا۔لیکن جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بشاشت ایمان کسی کے دل میں داخل ہو جائے تو ایسے شخص کو اگر آگ میں بھی ڈالا جائے تو وہ پھرا نہیں کرتا۔چونکہ شیخ صاحب کے دل میں بشاشت ایمان داخل ہو گئی تھی۔اس لئے یہ سب سختیاں ان پر بے اثر رہیں۔غرض مدتوں قید میں رہے۔آخر ایک دن موقع مل گیا اور دیوار پھاند کر نکل آئے۔بہر حال اس قوم میں اس قدر جوش ہوتا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ روح نہیں ہے۔لیکن باوجود حس ماری ہوئی ہونے کے جب ایسی حالت ہو تو احساسات کو ٹھیس لگتی ہے۔ساڑھے چار لاکھ آدمیوں کا اسلام کو چھوڑنا کوئی معمولی بات نہیں اس سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا ہے مگر اتنا نہیں جتنا کہ ضروری ہے اور ہو بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ یہ خود اسلام کو چھوڑ چکے ہیں۔بعض مولوی لوگ جو وہاں پہنچے ہیں۔انہوں نے ایسی بے ہودہ حرکات کی ہیں کہ الٹا نقصان پہنچا ہے۔مثلاً ان کی دھوتیاں اتروا کر پاجامے پہناتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔حالانکہ دھوتی اور پاجامہ کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔بہت سے علاقوں کے مسلمان دھوتی باندھتے ہیں یہ ایسی حرکات ہیں کہ وہ اسلام سے دور ہو جائیں گے۔کیونکہ بہت لوگ ایسی باتوں کے تغیر میں جو انکی قومی ہوں۔اپنی ذلت اور ہتک خیال کریں گے اور اسلام سے دور ہو جائیں گے۔اس حالت کو دیکھ کر ہمیں اس علاقہ میں کام کرنے کی ضرورت پیش آئی۔گو وہ لوگ احمدی نہیں ہیں کہ ان کے ارتداد کا ہم پر اثر پڑے مگر چونکہ وہ اسلام کے نام سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام کی شوکت کو قائم کرنا ہمارا کام ہے۔گو مذہبی طور پر ہم پر اثر نہ پڑے اور نہیں پڑتا کیونکہ مذہبی طور پر ان کے گرے ہوئے ہونے کے باعث ہی مسیح موعود مبعوث ہوئے۔اگر وہ اچھے ہوتے تو مسیح موعود کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔پس اسلام کے نام کی عزت کے باعث میں نے وہاں اپنے دو آدمیوں کو بھیجا۔ایک مولوی محفوظ الحق صاحب علمی اور دوسرے میاں عبد القدیر صاحب بی۔اے کہ یہ وہاں جائیں اور رپورٹ لکھیں۔ان کی رپورٹ سے تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ وہ آریہ ہو کر رہیں گے۔ان رپورٹوں کے آنے کے بعد میں نے ایک تدبیر سوچی ہے۔اس کی تفصیل خطبہ میں سنانے کا نہ وقت ہے، نہ مصلحت کہ اس کو بیان کیا جاوے لیکن چونکہ جب تک ضرورت کو ایک حد تک