خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 349

349 کے عقائد کا مگر یہ تو بتاؤ با بیت پہلے کہاں سے شروع ہوئی۔حشمت اللہ آگرہ والا اور محمد اسماعیل اور دوسرے بہائی جو بمبئی کراچی میں پائے جاتے ہیں۔وہ کن میں سے بہائی ہوئے ہیں۔کیا وہ بھی "محمودیوں میں سے بہائی ہوئے ہیں۔یہ لوگ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ الہام کو بھی جائز سمجھتے تھے یہ کیونکر بہائی ہو گئے۔پھر ایران مصر وغیرہ میں ہزاروں مسلمان کہلانے والے بابی ہو گئے۔کیا وہ بھی محمودیوں سے نکل کر ہوئے تھے۔اگر ہمارے عقیدہ کی اشاعت سے پیشتر دنیا میں بابی اور بہائی مذہب نہ تھا۔تب تو یہ بات کہی جا سکتی تھی۔اور اس مذہب کو ہمارے عقائد کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا تھا۔لیکن اگر باب میری پیدائش سے بھی پچاس سال پہلے دعوی کر چکا تھا۔اور اگر میرے پیدا ہونے سے چالیس برس پہلے بہاء اللہ دعوی کر چکا تھا۔اور اگر ہزاروں لوگ ان میں سے جو آنحضرت صلعم کو ان معنوں سے خاتم النبیین مانتے تھے کہ اس کے بعد کسی قسم کا بھی نبی نہ آئے گا اور جو قرآن کو ان معنوں سے کامل سمجھتے تھے کہ پہلے مفسروں کے مرنے کے بعد قرآن کا فہم بھی مٹ گیا ہے۔ہابیت اور بہائیت میں داخل ہو چکے ہیں۔تو کون سی عقل ہے جو یہ کہہ سکتی ہے کہ بہائیت ان خیالات کے نتیجہ میں پھیلتی ہے۔جو میں نے شائع کئے۔پھر وہ مولوی محمد احسن صاحب جن کے تعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ ابتدا سے ہمارے ساتھ تھے مگر اہل بیت کی محبت کی وجہ سے انہوں نے میاں صاحب کی بیعت کر لی تھی۔ان کے بیٹے کا بہائی ہونا کن خیالات کی وجہ سے تھا۔وہ محمد احسن صاحب جن کو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر پورا کار بند سمجھتے ہیں۔اور ان کو نبوت کا منکر جانتے ہیں۔ان کا بیٹا کیونکر بہائی ہو گیا۔اور ہوا بھی اس اختلاف سے پہلے جس نے بڑے جوش سے بابیت کا اعلان کیا حتی کہ بعض لوگ شک کرتے ہیں کہ برہان الصریح وغیرہ کتابیں بھی اس کی لکھی ہوئی ہیں۔واللہ اعلم یہ امر کہاں تک صحیح ہے۔بہر حال بہائیت وہابیت پیغامیوں کے گھر سے نکلی ہے۔پس جب ہابیت میرے خیالات کا نتیجہ نہیں تو مجھ پر کیسا الزام ؟ پھر ان لوگوں میں سے جو قرآن کے قسم کو بھی پرانے علماء کے بعد بند سمجھتے ہیں۔ہزاروں کا بابی ہو جانا کن خیالات کا نتیجہ ہے۔ان لوگوں کو اپنے گھر کی خرابی نظر نہیں آتی۔ذرا سوچیں تو سہی کہ یہ جو ہزاروں بابی اور بہائی ہیں۔یہ کسی اثر کے نیچے ہیں۔حضرت مسیح نے سچ کہا ہے۔دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آجاتا ہے۔مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ غیر مبایع ہم پر اعتراض کرتے ہیں مگر اپنے گھر کو نہیں دیکھتے۔پھر میں پوچھتا ہوں کیا کوئی ایسا زمانہ آیا ہے کہ مرتدین نہیں ہوئے۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ