خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 348

348 چھوڑنا پڑا۔مگر اب ہمیں اس کی وجوہ بچشم خود نظر آگئے۔ہم نے دیکھ لیا کہ جماعت قادیان اس روح کو فنا کر چکی ہے جو حضرت صاحب نے پیدا کی تھی۔ہم حضرت صاحب کو نبی نہیں مانتے۔آپ کے انکار کے باعث مسلمان کو کافر نہیں کہتے ہیں۔غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز سمجھتے ہیں۔غیر احمدی سے رشتہ جائز سمجھتے ہیں۔قادیان میں جو غلو حضرت صاحب کی ذات کے متعلق ہو رہا ہے۔اس کو دنیائے اسلام کے لئے مضر خیال کرتے ہیں۔ہماری جماعت نے کوئی فتنہ پردازی اور بددیانتی نہیں کی۔خدا شاہد ہے کہ ہم نے ہر طرح امن و عافیت کی راہ اختیار کی تھی۔مگر اس کو کیا کیجئے کہ ارباب قادیان نے ہمارے ساتھ وہ ناجائز برتاؤ کیا جس کو وہ خود بھی شرمندگی کے ساتھ ناجائز قرار دینے پر مجبور ہوں گے۔ہمیں بطور مجرم کے بلایا گیا۔ہم سے تمسخر کیا گیا۔غیظ و غضب کی نظریں ہم پر ڈالی گئیں۔ہم پر آوازے کے گئے۔ہمیں اپنی گلیوں میں چلنے سے روکا گیا۔ڈنڈے والے بھیجے گئے۔جو ہمیں ادھر سے ادھر لے گئے۔ہر طرح ہمارا بائی کاٹ کیا گیا۔چلتے وقت ہمیں اپنے گھر والوں سے بھی نہ ملنے دیا گیا۔تعجب ہے کہ وہ اخلاقی طاقت جس کا فخر اخباروں میں کیا جاتا ہے کہاں چلی گئی۔اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم ارباب قادیان کی نظر میں کافر اور مرتد ٹھہرے تھے اور ہم نے ان کی بعض راؤں سے اختلاف کیا تھا۔تو کیا ہم اسی سلوک کے مستحق تھے۔جو کیا گیا۔کیونکہ کسی غیر احمدی کے احمدی ہو جانے پر لوگ جب ایسے ہی معاملات عمل میں لاتے ہیں۔تو ارباب قادیان شیخ پڑتے ہیں۔اور اخباروں میں واویلا مچاتے ہیں۔عجیب تریہ کہ جناب میاں صاحب نے اپنے مریدوں میں کہا کہ تین روز تک یہ لوگ مجھ سے جو چاہیں دریافت کر سکتے ہیں۔لیکن ہمیں کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں دی گئی۔جناب نے آخری نبی میں خوب فرمایا کہ میاں صاحب اپنے جدید عقائد نبوت کے باعث باہیوں سے جا ملے ہیں۔سو اس میں شک نہیں کہ جناب میاں صاحب کے بیانات نے اس باب میں ایک بڑا کام کیا ہے اور اسی تحریک سے ہم لوگ بھی آج اس رنگ میں رونما ہوئے ہیں۔اور قادیانی گروہ میں کئی دوسرے لوگ بھی آج اسی رنگ میں رنگے جاچکے ہیں۔" یہ وہ خط ہے۔اس اخبار والا کہتا ہے کہ ہم تو پہلے ہی شور مچایا کرتے تھے کہ محمودی عقائد تباہی ڈالیں گے۔چنانچہ ایسا ہو گیا کہ اب ان عقائد کی وجہ سے لوگ بابی ہونے شروع ہو گئے۔اور اس کا اصل سبب میاں صاحب کے عقائد ہیں۔پہلے میں اخبار والے کا جواب دیتا ہوں۔دیکھو جس وقت انسان تعصب سے اندھا ہو جاتا ہے۔تو وہ کس طرح غلط اور الٹ نتیجے نکالتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ بہائیت اور بابیت نتیجہ ہے میاں صاحب