خطبات محمود (جلد 8) — Page 336
336 ہے۔یقیناً خدا میری مدد کرے گا اس لئے نہیں کہ میں مامور ہوں۔بلکہ اس لئے کہ میں خدا کے بچے نبی کا جانشین ہوں اور نبی خدا کی نعمتوں اور فضلوں کے قاسم ہوتے ہیں۔یعنی دوسروں میں بانٹتے ہیں۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نام ہی قاسم تھا پس جس قسم کے نشان نبی دکھاتے ہیں۔ویسے ہی اگر مدعی نبوت کی امت میں نظر آئیں۔تو وہ سچا نبی ہو گا اور اگر نہ نظر آئیں تو سچا نہیں ہو گا۔ہاں نبی اور اس کی امت کے نشانات میں قلت اور کثرت کا فرق ہو گا اس کی مثال ایسی ہی ہو گی۔تازہ بتازہ سنگترے تو باغ ہی سے مل سکتے ہیں۔لیکن وہ بھی سنگترے ہی ہوتے ہیں۔جو دکان سے مل جائیں۔یہ ایسا زبر دست معیار ہے کہ جس سے بچے اور چھوٹے میں بین فرق ہو جاتا ہے اس کے مطابق میں عام چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی مرگی ہے۔تو بالمقابل آئے اور دیکھے کہ خدا ہماری تائید کرتا ہے یا اس کی۔ہمارے لئے نشان دکھاتا ہے یا اس کے لئے۔اگر خدا تعالٰی ہماری مدد نہ کرے اور اس کی کرے تو وہ سچا اور اگر ہماری کرے۔اس کی نہ کرے تو معلوم ہوا کہ ہمارے سلسلہ کا بانی سچا اور خدا کا برگزیدہ ہے۔باقی سب قصے کہانیاں ہیں کہ ان کے بانیوں نے اپنے مریدوں کو کچھ نہیں دیا۔اگر اس بات کو ہماری جماعت کے لوگ یاد رکھیں تو کبھی ٹھو کر نہ کھائیں۔ہر اس شخص سے جو کسی جھوٹے مدعی کا پیرو ہونے کا دعوی کرے۔اس سے پوچھنا چاہئے کہ تمہیں کیا ملا ہے؟ ہم کو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ یہ نشان ملے ہیں اور اگر وہ خود ایسا نہیں کہ اسے نشان ملے تو کہے کہ ہماری اور اپنی جماعت کے لوگوں کے نشانات کا مقابلہ کر لو۔اس مقابلہ میں کوئی شخص تمہارے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کو ان نشانات کا وافر حصہ دے۔جو اس نے حضرت مسیح موعود کو دیئے ہیں تاکہ کوئی جھوٹا ان کے سامنے نہ ٹھر سکے۔اور خدا تعالیٰ دنیا کی آنکھیں کھولے۔تاکہ لوگ جھوٹ اور فریب حق اور صداقت میں فرق کر سکیں۔اور جھوٹ و فریب کو چھوڑ کر حق اور راستی اختیار کر سکیں۔(الفضل یکم اپریل ۱۹۲۴ء)