خطبات محمود (جلد 8) — Page 307
307 ہے۔جو فیصلہ کرے کہ دو گروہوں میں سے کون حق پر ہے ورنہ امر مشتبہ ہو جائے۔کیونکہ ایک جماعت تو اسبات کو نکال کر دکھاتی ہے کہ حضرت صاحب نبی نہیں اور ایک جماعت یہ نکال دیتی ہے کہ وہ نبی ہیں۔اور ایک جماعت حضرت صاحب کی تعلیم سے یہ ثابت کرتی ہے کہ حضرت صاحب کا منکر کا فر ہے اور اس کا جنازہ جائز نہیں اور دوسرا گروہ اس کے خلاف ثابت کرتا ہے بیشک ہمارے پاس دلائل ہیں۔لیکن پھر بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اللہ تعالی کے حضور دعا کریں کہ وہ ہمیں گمراہی سے بچائے اور صداقت پر قائم رکھے۔پس سورۃ فاتحہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم ہر لمحہ ہدایت کے محتاج ہیں۔دیکھو یہاں ہی حضرت صاحب کی کتب کی تشریحات و تاویلات شروع ہو گئی ہیں۔وہ لوگ جو اپنی حالت پر مطمئن ہو جاتے ہیں وہی ہمیشہ ٹھو کر کھاتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہر وقت ہدایت کے محتاج ہیں اور خدا کی مدد کے محتاج ہیں۔وہ ٹھوکر سے محفوظ رہتے ہیں۔دیکھو ہمارا جب اختلاف شروع ہوا تو اس وقت باوجود اس کے کہ ان عقائد کے متعلق میرے پاس کافی دلائل تھے۔پھر میں نے بار بار متواتر کئی دنوں تک یہ دعا کی کہ اے خدا! اگر یہ عقائد درست نہیں اور مجھے ان پر قائم نہیں رہنا چاہئے۔تو تو مجھ پر ظاہر کر دے کہ یہ میرے خیالات درست نہیں اور مجھے ان عقائد سے ہٹا لے۔مجھے قطعا اس بات کی ضرورت نہیں کہ مرزا صاحب نبی ہیں یا نہیں۔مجھے تو صرف تیری رضا کی ضرورت ہے۔اس دعا کے بعد جب بڑے وثوق کے ساتھ مجھ پر خدا تعالی کی طرف سے ظاہر کیا گیا کہ جن عقائد پر میں قائم ہوں اور یہ کہ حضرت مسیح موعود واقعی نبی ہیں۔تب مجھے اطمینان ہوا۔جب ولا ئل اور ہدایت دونوں جمع ہو جائیں تب پھر کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔پس وہ انسان کہ جو ایمان کی ضرورت سمجھتا ہے۔اسے دعا کرتے رہنا چاہئے کہ خدا اسے بچے راستہ پر قائم رکھے صرف اللہ تعالی کی ہی ذات ہے۔جو غلطیوں سے پاک ہے۔باقی کوئی انسان غلطی سے محفوظ نہیں اس کے لئے ہر وقت ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہے۔اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالٰی سے دعا کرتا رہے کہ میں ہدایت پر قائم رہوں اور اے خدا میں تیری مدد کا ہر وقت محتاج ہوں۔ہو سکتا ہے کہ میں ایسے شخص کے پاس ہدایت سمجھوں کہ جو در حقیقت خود گمراہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک کے پاس ہدایت ہو لیکن مجھے معلوم نہ ہو کہ ہدایت اس کے پاس ہے۔جب اخلاص کے ساتھ