خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 306

306 معلوم ہو۔اور اس کی جگہ معلوم نہ ہو۔حضرت صاحب کے دعوئی کے مقابلہ میں بھی سب سے بڑی روک جہالت ہے کیونکہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ جب ہدایت آچکی ہے۔تو پھر مرزا صاحب کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ ان کو یہ معلوم نہیں کہ فلاں حصہ ہدایت کا ہے کہاں؟ اور کیسے پورا ہو سکتا ہے۔اب ایک ماں کا گم شدہ بچہ جو اپنی ماں کے لئے روتا پھرتا ہے۔کیا اسے یہ کہہ کر تسلی دے سکتے ہیں۔کہ تیری ماں فلاں جگہ ہے۔یا اسے اس کی ماں کے پاس پہنچایا جائے۔اسی طرح اگر ساری دنیا بھی کہ ہدایت سے بھری ہوئی ہو۔لیکن ہمیں علم نہ ہو۔کہ وہ ہدایت ہے کہاں اور کس کے پاس مل سکتی ہے۔اور دونوں صورتوں میں ہلاکت ہے۔اب ایک شخص ہے۔جس کو معلوم نہیں کہ اس کی بیماری کا کیا علاج ہے اور ایک دوسرا شخص ہے۔جس کو معلوم نہیں کہ بیماری کا علاج کہاں ہوتا ہے۔ان دونوں کے لئے ہلاکت تیار بیٹھی ہے۔اور دونوں کے لئے خطرہ ہے۔اسی طرح وہ قوم کہ جس کو معلوم نہیں کہ ہدایت ہے کہاں۔وہ اسی قوم کی طرح ہے۔جو یہ نہیں جانتی ہے کہ آیا ہدایت ہے یا نہیں۔اھد نا میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ہدایت تو آگئی ہے لیکن ہمیں یہ پتا نہیں کہ ہدایت ہے کہاں۔کیونکہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کے ماننے والے تو ہم سب اپنے آپ کو کہتے ہیں۔اس لئے یہ بھی خدا کا ہی کام ہے کہ وہ بتائے کہ قرآن کے ماننے والوں میں سے کون سا گروه انعمت علیھم میں شامل ہے۔تو اھد نا میں بتایا ہے کہ ہدایت کے ہوتے ہوئے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم تلاش کریں۔کہ ہدایت ہے کہاں کیونکہ صرف قرآن کے مان لینے سے ہدایت نہیں ہوتی۔بلکہ اس کی تعلیم پر چلنے سے ہدایت ہوتی ہے۔اگر ہم پہچان نہ سکیں۔کہ کون اس کی تعلیم پر چل رہا ہے۔تو ہمیں اس ہدایت سے کیا فائدہ اگر قرآن کریم موجود نہ ہوتا تو ہمارے لئے ایسی ہی بربادی کی صورت تھی کہ جیسے اس حالت میں کہ جب کہ قرآن کے ہوتے ہوئے پھر اس کی صحیح تعلیم اور صحیح مفہوم بتانے والا اور اس پر چلنے والا ہمارے سامنے نہ ہوتا۔پس اس ضرورت کے ماتحت ہمیشہ انبیاء و مرسلین کی ضرورت ہے اور ضرورت رہے گی جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہدایت کہاں سے مل سکتی ہے اور کون اس پر چل رہا ہے۔تب تک ہم خطرہ سے محفوظ ہوں گے تو صداقتوں کے لئے یہ بھی ضرورت ہے کہ ان کے کون سے مطالب درست ہیں۔دیکھو حضرت صاحب کی تعلیم کے ہوتے ہوئے اختلاف پایا جاتا ہے۔اس کے لئے بھی خدا ہی کی مدد کی ضرورت