خطبات محمود (جلد 8) — Page 3
3 ہمارا آئندہ پروگرام (فرموده ۵ / جنوری ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔مجھے کھانسی اور بخار کی شکایت ہے۔اس لئے بلند آواز سے میں نہیں بول سکتا۔لیکن میں سمجھتا ہوں آج کا دن اس انتظام کو مد نظر رکھ کر جس پر آج کل دنیا کار بند ہو رہی ہے بہت اہم ہے۔اس لئے جس طرح بول سکوں۔بولتا ہوں۔دنیا میں کام کرنے والی ہر ایک قوم آئندہ کے لئے اپنا پروگرام بناتی اور اس کے ماتحت کام کرتی ہے۔جب سال گذرتا ہے تو وہ دیکھتی ہے کہ اس سال کے لئے اس نے جو پروگرام بنایا تھا اس پر کہاں تک اس نے عمل کیا۔اگر عمل کرنے میں کو تاہیاں ہوئی ہیں تو کیوں ہوئی ہیں۔آیا اپنے قضوروں سے یا اتفاقی حادثات سے اور اگر اپنے قصوروں سے تو ان کا شرعی نتیجہ کیا نکلا ہے اور قدرتی کیا۔پھر جو غلطیاں معلوم ہوں ان کا تدارک کرتی ہے۔یہی طریق ہر سال برابر چلتا جاتا ہے۔ہمارا بھی پچھلا سال گزر گیا ہے جو بڑی عمر والے تھے ان کا بھی گزر گیا ہے اور جو چھوٹی عمر والے تھے ان کا بھی۔عورتوں کا بھی وہ سال گزر گیا ہے اور بچوں کا بھی۔سب کا کسی نہ کسی رنگ میں گذر گیا ہے۔تمہارا وہ سال جس طرح گذرا اس پر غور کر کے دیکھ لو کہ جس طرح گذرا ہے اگر اس طرح نہ گذر تا بلکہ اس طرح گذر تا تو بھی گزر ہی جاتا۔لیکن جب تک نفسانی خواہشیں، اُمنگیں اور اُمیدیں سامنے تھیں اس وقت صرف وہی تمہیں اپنی زندگی کا مقصد نظر آتی تھیں۔لیکن جب وہ گذر گئیں تو معمولی ہو گئیں۔تم سوچو اگر اس گذرے ہوئے سال میں اس طرح نہ ہو تا جس طرح تم چاہتے تھے بلکہ اس طرح ہوتا جس طرح اسلام چاہتا تھا۔جس طرح بنی نوع انسان کے فوائد چاہتے تھے۔جس طرح سلسلہ اور جماعت کے اغراض و مقاصد چاہتے تھے۔جس طرح اعلیٰ اخلاق چاہتے تھے۔جس طرح عزیزوں اور رشتہ داروں کے تعلقات چاہتے تھے۔تو کیا تمہاری زندگی میں کوئی فرق آجاتا ہے۔ہرگز نہیں۔اب جبکہ وہ وقت گذر گیا جس میں تم ذاتی اور نفسانی فوائد اور اغراض کو اپنی زندگی کا اہم مقصد سمجھتے تھے اور جن کی نسبت خیال رکھتے تھے کہ ان کے بغیر زندگی تلخ ہو جائے گی۔وہ تم کو