خطبات محمود (جلد 8) — Page 29
29 حقیقت ہے کہ اس سے ہزاروں جگہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔کسی سلسلہ کی سچائی اور اس کی راستی کا معیار بھی یہ بات ہے کہ آیا اس کا پھل قیمتی اور کار آمد ہے یا نہیں۔وہ سلسلہ اس غرض اور غائت کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔جو روحانی سلسلہ کی ہوا کرتی ہے۔اگر کوئی سلسلہ اپنی تاثیرات اور اپنے اثرات اور اپنی نفع رسانیوں سے ثابت کردے کہ وہ اس غرض کو پورا کر رہا ہے جو روحانی سلسلہ کئی ہوا کرتی ہے تو وہ اعلیٰ اور سچا ہے لیکن اگر کوئی سلسلہ اپنے پھلوں سے اپنے اعلیٰ ہونے کا ثبوت نہیں دیتا تو وہ سچا کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ہمارے سلسلہ کے متعلق بھی لوگوں کو شبہات پیدا ہوتے ہیں۔اور شبہات پیدا کیا ہوتے ہیں؟ یوں کہو کہ چونکہ ہمارا سلسلہ ان لوگوں کے عقائد اور خیالات کو باطل قرار دیتا اور ان کو رد کرتا ہے اس لئے عام طور پر وہ لوگ سلسلہ کی مخالفت پر کھڑے رہتے ہیں اور عیب نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔لیکن ایک عظمند اور منصف انسان کے لئے فیصلہ کرنے میں بہت آسانی اور سہولت ہو جاتی ہے۔اگر وہ یہ دیکھے کہ کیا اس سلسلہ کے پھل ایسے ہی ہیں جیسے پہلے روحانی سلسلوں کے ہوتے رہے ہیں۔اگر اسے ویسے ہی پھل نظر آئیں تو اس سے سلسلہ کو بھی روحانی ماننا پڑے گا۔لیکن اگر کوئی پھر بھی اعتراض کرے گا تو یہ اس کی اندرونی خرابی اور نقص کی وجہ سے ہوگا۔نہ یہ کہ سلسلہ سچا نہیں ہو گا۔دیکھو اگر نیشکر اعلیٰ درجہ کا ہے اور اس کے چکھنے سے کسی کو کڑواہٹ معلوم ہوتی ہے تو یہ نیشکر کا نقص نہیں ہوگا بلکہ چکھنے والے کا ہوگا۔اسی طرح اگر شیریں پھل سے کسی کے منہ میں کڑواہٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پھل خراب ہے بلکہ یہ چکھنے والے کے اندر مرض ہے۔اسی طرح اگر ایک کھانے کا عمدہ ہونا دلائل اور مشاہدات سے ثابت ہو جائے اور پھر کچھ لوگ اس کے متعلق اعتراض کریں کہ یہ پھیکا ہے۔بد مزہ ہے یا یہ کہ اس میں نمک زیادہ ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہونگے کہ کھانا خراب ہے بلکہ یہ کہ نقص نکالنے والوں میں نقص ہے۔اس صورت میں ہمارے لئے یہ ضروری نہیں ہو گا کہ ہم کھانے کی اصلاح کریں بلکہ یہ ضروری ہوگا کہ اعتراض کرنے والوں کی بیماری کی اصلاح کریں۔ان کے ناک زبان اور عقل کی شہادت اس امر کے لئے کافی نہیں ہوگی کہ کھانے میں تغیر کریں بلکہ وہ اس امر کی طرف توجہ دلائے گی کہ ان کی بیماری کی طرف توجہ کی جائے۔اس وقت ہمارے سلسلہ اور سلسلہ کے کاموں کے متعلق ایک نئی تحریک کے متعلق اسی قاعدہ کے مطابق صداقت ثابت ہوئی ہے۔تین چار ہفتے ہوئے میں نے مسجد برلن کے لئے اعلان کیا تھا۔ہماری جماعت غریب اور کمزوروں کی جماعت ہے۔پھر اس کے اخراجات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ ایسی بڑی بڑی رقمیں جن کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے جمع کر سکتی ہے۔خلافت لڑکی کے لئے