خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 28

28 6 برلن میں خانہ خدا بنانے کی تحریک احمدی خواتین کا اولوالعزمانہ ایثار (فرموده ۲ / مارچ ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک قول جو ایک عام قانون قدرت کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ مجھے بہت پسند آتا ہے۔فرماتے ہیں۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے کسی درخت کی قیمت کسی درخت کی حقیقت کسی درخت کا فائدہ اس کی عام نفع رسانی اور اس کا لوگوں کے لئے موجب برکات ہونا اس کا اندازہ اس کے پھل سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔پھل سے یہ مراد نہیں کہ وہ میوہ جو کھایا جاتا ہے بلکہ پھل سے وہ مقصد اور مدعا وہ کام اور غرض مراد ہے جس کے لئے کوئی درخت لگایا جاتا ہے۔ایک درخت جو اس لئے لگایا جاتا ہے کہ اس کے پتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔اس کے پتے ہی اس کا پھل ہیں۔ایک درخت جو اس لئے لگایا جاتا ہے کہ اس کا ایندھن بنایا جائے۔اس کی لکڑی اس کا پھل ہے۔ایک ایسا درخت جو میوے کے لئے لگایا جاتا ہے اس کا میوہ اس کا پھل ہے۔غرض جو درخت جس مقصد کے لئے لگایا جاتا ہے اگر اسی کے مطابق وہ میوہ پیدا کرتا ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو وہ اعلیٰ درجہ کا پھل لاتا ہے۔مثلاً ایک ایسا درخت جو چتوں کی غرض سے لگایا جاتا ہے یعنی اس کے پتے ایسے مفید ہوتے ہیں کہ دوائیوں میں پڑتے ہیں۔یا اس کی شاخیں ایسی عمدہ اور کار آمد ہوتی ہیں کہ صنعت و حرفت میں کام آتی ہیں۔یا اس کا سایہ ایسا اچھا ہوتا ہے کہ لوگ اس سے آرام پاتے ہیں۔جب یہ کام دینے لگ جائے تو وہ درخت اچھا ہو گا کیونکہ اس کا پھل اچھا ہے۔لیکن اگر وہ اس غرض کو پورا نہیں کرتا جس کے لئے لگایا گیا تو وہ درخت اچھا نہیں ہو گا۔اس کو اگر ساری دنیا اچھا کے تو وہ اچھا نہیں بن سکتا۔اور اگر اس کی جو غرض ہو اسے وہ پورا کرے تو ساری دنیا کے برا کہنے سے وہ برا نہیں ہو سکتا۔یہ ایک ایسی