خطبات محمود (جلد 8) — Page 251
251 سکتی۔ماننے والوں میں سے اگر کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے یا کسی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ کسی اپنی شامت اعمال کی وجہ سے اس کا مستحق ہوتا ہے۔اپنی حالت میں ایسا شخص دو پتھروں کے نیچے کچلا جاتا ہے۔ایک پتھر تو یہ ہوتا ہے کہ جو ہلا دین کے دشمنوں کے لئے تھی وہ اس میں مبتلا ہو گیا۔اور دوسرا یہ کہ دشمنوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوا۔اور جس کا سر دو پتھروں کے نیچے ہو۔اس کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔دوسرا امر یہ ہے کہ عذاب جن کے لئے ہے وہ ہمارے بھائی ہیں اور بھائی بھی کئی قسم کے۔اول وہ اس رسول کو ماننے والے ہیں جس کو ماننا اور منوانا ہمارا فرض ہے۔اس لئے وہ اس رسول میں سے ہو کر ہمارے بھائی ہیں۔پھر وہ ہمارے اہل وطن ہیں۔اس لئے وہ ہندوستان میں ہو کر ہمارے بھائی ہیں۔پھر وہ انسان ہیں اور ہم اور وہ ایک انسان کی اولاد ہیں۔اس لئے ہمارے بھائی ہیں۔پھر بعض ان میں ہمارے رشتہ دار اور قریبی بھی ہیں۔ہمارے ہمسائے بھی ہیں۔اس لحاظ سے بھی ہمارے بھائی ہیں پس کئی وجوہ سے وہ ہمارے بھائی ہیں۔ان تمام تعلقات کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اگر ان کو تکلیف پہنچے تو ہمیں ضرور رنج ہوتا ہے۔اور ہم ان کی تباہی پر خوش نہیں ہو سکتے۔بلکہ ہم اس صورت میں خوش ہو سکتے ہیں اگر وہ عذاب سے بچ جائیں۔اس لئے میں اپنی جماعت کو یہ بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس امر کی بھی کوشش کریں کہ جہاں تک ہو سکے وہ لوگ عذاب میں مبتلا ہونے سے بچائے جائیں۔اور ان کو بچانے کا طریق یہی ہے کہ ان کو تبلیغ کی جائے۔اور وہ اس زمانہ کے مامورو مرسل پر ایمان لائیں۔جب خدا کسی کو عذاب میں مبتلا کر رہا ہو تو اس کو نہیں بچایا جا سکتا۔مگر اس طرح کہ ان حالات کو بدل دیا جائے اور اس میں اصلاح پیدا ہو جائے۔ورنہ اور ذرائع سے خدا کے عذاب میں گرفتار شخص کو بچانے کی سعی کرنا جنون ہے۔پس اگر کسی کا بچنا ممکن ہے تو تبلیغ کے ذریعہ ہی۔اور اگر تبلیغ نہ کی جائے تو اس کے معنے ہیں کہ ان کی ہلاکت میں گویا ہم بھی مددگار ہیں۔پس ہمارے دو فرض ہیں۔اول یہ کہ دعا و استغفار کثرت سے کریں۔اور عاجزی اور انکساری اختیار کریں۔دوسرے یہ ہے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں سعی بلیغ کریں تاکہ لوگ سلسلہ حقہ میں داخل ہو کر خدا کے عذاب سے بچ جائیں۔اللہ تعالٰی ہم پر بھی رحم کرے اور ان پر بھی جو اب تک صداقت کو قبول کرنے سے محروم ہیں اور ان کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دے۔دوسرا خطبہ پڑھنے کے بعد فرمایا۔جمعہ کی نماز پڑھ کے ایک جنازہ پڑھوں گا۔جن دنوں میں لاہور میں تھا۔میری چھوٹی بیوی کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔چونکہ میں ان کا جنازہ پڑھ نہیں سکا تھا۔اس لئے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی خواہش ہے اور خود مجھ پر بھی مرحومہ کا حق ہے کہ میں ان کا