خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 246

246 کے لئے چند دن کام کر کے پھر چھوڑ دیا جاتا ہے ہرگز نہیں۔پھر خدا کے کام کو کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئیے کہ مومن کے لئے اس دنیا میں آرام نہیں اور جب تک تم اس بات کو نہ سمجھ لو کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔مومن کے آرام کا وقت اس کے مرنے کے بعد ہوتا ہے۔اسی لئے اہل اللہ کہتے ہیں کہ مومن کے لئے خوشی کی گھڑی وہ ہوتی ہے جب اس پر موت آتی ہے۔اور کافر کے لئے وہ دکھ کی گھڑی ہوتی ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اب میرا آرام ختم ہو گیا اور دکھ شروع ہو گا۔مگر مومن یہ دیکھتا ہے کہ اب میرا دکھ ختم ہو گیا اور آرام شروع ہو گا۔پس وہ جو اس دنیا میں آرام سے بیٹھ جاتا ہے اور خدا کی راہ میں تکالیف نہیں اٹھاتا وہ مومن نہیں۔کیونکہ مومن کے آرام کا وقت وہ ہے جبکہ وہ مرتا ہے۔پس تم لوگ اس بات کو سمجھ کر اپنے اعمال کی اصلاح کرو۔بے ہمتی اور بے استقلالی نہایت افسوس ناک باتیں ہیں۔پھر کسی کی نگرانی اور راہنمائی کا اپنے آپ کو محتاج سمجھنا بھی نادانی ہے۔نگرانی کے محتاج بچے ہوتے ہیں۔مگر مومن جوان ہوتا ہے اور وہ اپنا نگران خدا کو ہی سمجھتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی اصل نگرانی کر سکتا ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے اور حضرت مسیح موعود بھی فوت ہو گئے۔پھر کون ہو سکتا ہے جو ہمیشہ نگرانی کر سکتا ہے۔اس لئے ایسے زمانے بھی آتے ہیں جب کہ کوئی نگران نہیں ہوتا۔جیسے مسلمانوں پر زمانہ آیا کہ نہ ان کی خلافت رہی اور نہ امامت۔اس لئے مومن کو چاہیے کہ اپنے فرض کو خود پہچانے اور کسی کی یاد دہانی کا محتاج نہ رہے۔یہ خاص وقت ہے جب تم لوگ کام کر کے بڑے بڑے اجر پاسکتے ہو۔حضرت مسیح موعود کا شعر ہے۔امروز قوم من نه شناسد مقام من روزی بگریه یا دکند وقت خوشترم کہ آج میری قوم میرا درجہ نہیں پہچانتی مگر ایک وقت آئے گا جبکہ کے گی۔کاش ہم مانتے اور اس نعمت سے محروم نہ رہتے۔پس جب وقت گذر جاتا ہے تو انسان پچھتاتا ہے۔اس لئے میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ گو یہ مامور کا زمانہ نہیں۔لیکن مامور کے قرب کا زمانہ ہے۔آپ کی تعلیم موجود ہے۔آپ کو دیکھنے والے موجود ہیں۔اس لئے اس زمانہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھو۔اور اپنی اصلاح کرو۔تبلیغ میں سستی نہ کرو اور دوسروں تک پہنچاؤ کیونکہ ایمان اور سستی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔خدا کرے آپ لوگ اس بات کو سمجھیں اور اپنے فرض کو پہچانیں۔تا جلد وہ دن آئے جب ہم دیکھیں کہ کفرمٹ کر ہر طرف اسلام ہی اسلام ہو گیا ہے۔الفضل ۷ در نومبر ۱۹۲۳ء)