خطبات محمود (جلد 8) — Page 241
241 کسی اور مقصد کے لئے نہ کی جاتی ہو۔اور نہ کی جانی ممکن ہو۔رہے اسلام نے اس مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حیات مقصد سے وابستہ ہوتی ہے اور حیات انسان کو اس لئے دی گئی ہے کہ جو اس کا مقصد ہے اسے حاصل کر کے دکھائے اور دنیا میں خدا تعالیٰ کا مظہر بنے۔اسلام نے انسان کا یہ مقصد رکھا ہے کہ اسے خدا مل جائے یہ اتنا بڑا اور عظیم الشان مقصد - جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا اس لئے اس کے حاصل کرنے والوں کو کبھی سُست نہیں ہونا چاہیے۔کئی لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم نے دنیا کے سارے کام کر لئے۔اب ہمیں اپنے کھانے پینے کے لئے یا بیوی بچوں کو کھلانے کے لئے محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔بچے جوان ہو گئے ہیں وہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ایسا انسان چارپائی پر لیٹا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا یا کچھ کام کر ہی نہیں سکتا۔کیونکہ قومی اس کو جواب دے چکے ہوتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی مقاصد ایسے ہیں کہ وہ یا تو ختم ہو جاتے ہیں یا انسان ان کے حصول کی کوشش کرنے سے رہ جاتا ہے۔اور وہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان کو پورا کر ہی نہیں سکتا۔جیسے کہ اگر کوئی بوڑھا چاہے کہ کچھ کمائے تو سکما نہیں سکتا۔ایسی حالت میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ کڑھتے ہیں۔مگر اسلام نے انسان کے لئے ایسا مقصد رکھا ہے کہ اس کے لئے جتنی کوشش کریں تھوڑی ہے اور خواہ کسی حالت میں ہوں اس کے لئے کوشش کر سکتے ہیں۔دنیاوی مقاصد کی تو یہ حالت ہے کہ مثلاً کوئی ملازمت کی تلاش میں ہے اسے جب ملازمت مل گئی تو اس کا مقصد حاصل ہو گیا۔بیوی بچوں کے لئے مال جمع کرنا چاہتا ہے۔جب مال ملے گا تو اس کا مقصد پورا ہو گیا۔بیماری سے صحت یاب ہونا چاہتا ہے جب صحت ہوگی تو اس کا مقصد ختم ہو گیا۔مگر اسلام نے انسان کا جو یہ مقصد رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات حاصل ہو وہ ایسا ہے کہ جو کبھی خو نہیں ہو سکتا۔کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے خدا مل گیا ہے اور اب مجھے اور ترقی کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔بعض نادان اعتراض کیا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اهلنا الصراط المستقيم کہا کرتے تھے تو کیا ان کو سیدھا راستہ نہیں ملا تھا۔مسلمان کہتے ہیں کہ وہ ساری دنیا کے لئے ہادی اور راہ نما ہیں۔مگر ان کو تو خود سیدھا راستہ نہ ملا ہوا تھا کیونکہ وہ کہتے رہے کہ اے خدا مجھے سیدھا راستہ دکھا۔اگر کہو کہ ان کو سیدھا راستہ ملا ہوا تھا تو معلوم ہوا (نعوذ باللہ) وہ جھوٹ کہتے تھے اور اگر نہیں ملا ہوا تھا تو وہ دوسرے کے ہادی کس طرح ہو سکتے ہیں۔مگر یہ اعتراض کرنے والوں کی نادانی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سیدھا راستہ تو ملا ہوا تھا مگر وہ راستہ کبھی ختم نہ ہونے والا راستہ ہے۔اعتراض کرنے والے اهدنا الصراط المستقيم