خطبات محمود (جلد 8) — Page 240
240 جاتے ہیں۔کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ گیند کو ڈنڈا مارنے سے کیا لطف حاصل ہوتا ہے اور نہ کھیلنے والوں کی یہ غرض ہوتی ہے بلکہ ان کی غرض اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ گیند کو فلاں جگہ پہنچانا ہے اس سے بچوں میں ہوشیاری اور چستی پیدا ہوتی ہے اور اس طرح انہیں کچھ مشق ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامنے کوئی مقصد اور مدعا رکھیں۔مگر ان کا اس وقت کا مقصد چھوٹا ہوتا ہے جو چند منٹ میں حاصل ہو جاتا ہے۔پھر جب بچے سکولوں میں داخل ہوتے ہیں تو ذرا بڑا مقصد ان کے سامنے ہوتا ہے۔جو ایک سال میں حاصل ہوتا ہے۔یعنی سال کے بعد امتحان دیتے ہیں اور اگلی جماعت میں جاتے ہیں۔اگر لڑکوں کا امتحان نہ ہو تو بہت سے لڑکے جاہل ہی رہیں امتحان ہی ان سے محنت کراتا ہے اور یہی صحیح طور پر وقت صرف کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ امتحان دینا ہے اس لئے محنت کرتے ہیں۔اور ایک امتحان جب پاس کر لیتے ہیں تو دوسری جماعت کا امتحان دینا ان کا مقصد بن جاتا ہے۔پھر تیسری جماعت کا۔پھر چوتھی کا۔یہاں تک کہ جب تعلیم کے زمانہ کو ختم کر لیتے ہیں تو ان کو اپنا مقصد بدلنا پڑتا ہے اور اس وقت ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مال و دولت پیدا کریں تاکہ آرام و آسائش کی زندگی بسر کر سکیں۔وہ اس کے لئے محنت کرتے رہتے ہیں۔اور پھر اس سے اوپر ترقی کرتے ہیں شادی کرتے ہیں، بچے پیدا ہوتے ہیں۔ان کی تعلیم و تربیت کے سامان مہیا کرنے کے لئے محنت و مشقت کرتے ہیں۔اگر ان باتوں کو علیحدہ کر دیا جائے تو کوئی آدمی محنت نہ کرے۔امتحانات کو ترک کر دیا جائے۔بیوی بچوں کے خیال کو علیحدہ کر دیا جائے۔معیشت کی فکر کو چھوڑ دیا جائے تو انسان مردوں کی طرح ہو جائے گا۔اور اس کا صرف یہ کام رہ جائے گا کہ جب کھانا سامنے آگیا تو کھا لیا۔پس مقاصد ہی انسان کی حیات کو حقیقی طور پر ظاہر کرتے ہیں اور انہی سے زندگی کی روح پیدا ہوتی ہے جس انسان کے سامنے یہ مقصد ہو کہ بیوی بچوں کو کھلانا پلانا ہے وہ اور رنگ میں کوشش کرے گا اور جس بادشاہ کے سامنے سارے ملک کا انتظام ہو وہ اور رنگ میں کوشش کرے گا۔دونوں کی کوششوں میں فرق ہو گا۔عام انسان کم کوشش کرے گا اور بادشاہ کی کوشش بہت زیادہ ہوگی۔حتی کہ بعض ممالک کے حکمراں انسانوں کی ذمہ داریاں اس قدر بڑھی ہوئی ہوتی ہیں کہ میں نے ایک اخبار میں پڑھا جو لکھتا ہے کہ امریکہ کی پریذیڈنٹی انسانوں کی قاتل ہے۔کیونکہ تین سال کے عرصہ میں ملک کے بہترین انسان کو مار دیتی ہے۔یا مار دینے کے برابر کر دیتی ہے۔تو جتنا بڑا کوئی مقصد ہوتا ہے اس کے لئے اتنی ہی زیادہ کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور حقیقی زندگی مقاصد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔پس جبکہ ہم یہ عام نمونہ دیکھتے ہیں اور تمام انسانوں کی زندگی مقاصد سے وابستہ پاتے ہیں تو اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کسی کو ایسا اعلیٰ درجہ کا مقصد مل جائے جس کے مقابلہ کا اور کوئی مقصد نہ ہو۔اور اس کے لئے اسے ایسی کوشش کرنے کا موقع ملے۔جیسی