خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 239

239 41۔جماعت احمدیہ کے مقصد کی اہمیت اور اس کے حصول کی کوشش (فرموده ۱۲۶/ نومبر ۶۱۹۲۳ تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ہر ایک انسان دنیا میں اپنے لئے کوئی نہ کوئی مقصد اور مدعا رکھتا ہے۔جس کسی آدمی کو بھی دیکھو اس کی زندگی میں حرکت اس کے کاموں میں جوش اور اس کے ارادوں میں بلندی تبھی ہوگی جبکہ وہ کوئی ایسا کام کر رہا ہوگا جس کے ساتھ اس کا مدعا اور مقصد وابستہ ہوگا اور جب کسی کے سامنے کوئی مقصد اور مدعا نہ رہے۔اسی وقت اس کی زندگی موت سے بدل جاتی ہے وہ گو زندوں میں نظر آتا ہے مگر دراصل وہ مُردوں میں شامل ہوتا ہے۔پس زندگی کے کیا معنے ہیں۔اس کے معنے کوئی مقصد اور مدعا اپنے سامنے رکھنا ہے۔بے شک ایسی چیزیں ہیں جو کوئی مقصد نہیں رکھتیں اور پھر بھی زندہ رہتی ہیں۔مگر وہ حیوانات والی زندگی ہے۔اور انسانوں اور حیوانوں میں یہی فرق ہے کہ انسان اپنا ایک مقصد رکھتے ہیں اور حیوانوں کے سامنے جو چیز آجائے وہ ہی مقصد بن جاتی ہے۔ان کے برخلاف انسان ایک چیز کو مقصد کے طور پر سامنے رکھ کر اس کی طرف چلتا ہے۔اور جب اسے وہ حاصل ہو جاتی ہے تو پھر اور کو مقصد قرار دے لیتا ہے اور جب وہ بھی حاصل ہو جاتی ہے تو پھر اور کو۔اور یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔بچپن سے لیکر بڑھاپے تک دیکھ لو تمام انسانوں کی یہی حالت ہے جونہی بچہ ہوش سنبھالتا ہے اور تمیز حاصل کرتا ہے اسی وقت سے دانا اور عظمند لوگ اس میں زندگی کی روح پیدا کرنے کے لئے اس کے سامنے مقصد رکھتے ہیں۔مثلاً بچہ کھیلیں کھلیتا ہے اس وقت اس کے سامنے یہ مقصد ہوتا ہے کہ فتح حاصل کرنی ہے۔ہمارے ملک میں عام طور پر بچے کبڈی اور گیند سے کھیلتے ہیں ان کھیلیوں میں بچوں کا جب تک یہ مقصد ہوتا ہے کہ مقابل والے کو ہرانا اور خود فتح حاصل کرنی ہے اس وقت تک جوش سے کھیلتے ہیں اور جب مقابل والے کھیلنا چھوڑ دیں تو بیٹھ