خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 237

237 کی مشق نہ ہو وہ خواہ کتنا ہی معمولی ہو۔اسے نہیں کر سکتا۔میرا اپنا ہی واقعہ ہے کہ مکان بن رہا تھا اور مستری لکڑ گھڑ رہے تھے۔میری چھوٹی عمر تھی۔میں نے جو ان کو لکڑی پر تیشہ مارتے دیکھا تو سمجھا کہ آسان کام ہے اور میرے دل میں بھی اس کے کرنے کا شوق پیدا ہوا۔جب وہ آدمی کہیں گیا تو میں نے تیشہ چلانا چاہا۔ابھی پہلا ہی تیشہ مارا تھا کہ اس سے میری انگلی زخمی ہو گئی۔اسی طرح ایک دفعہ کوئی مزدور کام کر رہا تھا اسے دیکھ کر میں پیچھے پڑ گیا کہ مجھے کسی دو۔میں بھی چلاؤں گا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ یہ کونسی مشکل بات ہے لیکن جب کسی مارنے لگا تو وہ میرے پاؤں پر لگی۔تو ہمیشہ کام کرنے سے آتے ہیں۔میں نے بار بار سمجھایا ہے کہ جن لوگوں سے کام لیتا ہوتا ہے ان سے مصنوعی طور پر دو دو ماہ پہلے وہ کام کرائے جائیں۔دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر مشق کرانے کا شوق تھا۔آپ کو یہاں تک خیال تھا کہ آپ مسجد میں جنگی مشقیں کرایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ مسجد میں حبشیوں سے گت کا کھلایا۔اس حدیث کا ترجمہ کرنے والے بعض مولویوں نے اس کو تماشا لکھا ہے اور کتنے کو تماشا میں شامل کر کے نبی کریم کو تماشا دیکھنے والا اور اپنی بیوی کو دکھانے والا قرار دیا ہے لیکن یہ وہ تماشا ہے کہ جس کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔جو قوم یہ تماشا نہیں جانتی دنیا اس کا تماشا دیکھتی ہے۔اور جس طرح قلندروں کے ہاتھ میں بندر ہوتے ہیں جو ناچتے ہیں۔اسی طرح وہ دوسری قوموں کے قبضہ میں ہوتی ہے جو اس کو نچاتی ہیں۔پس گو ایسے کام دیکھنے میں تماشا ہی معلوم ہوں لیکن در حقیقت یہ مشقیں ہوتی ہیں۔میں نے بارہا ایسی مشقوں کے لئے توجہ دلائی ہے لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ایک دفعہ بھی اس طرح توجہ نہیں کی گئی۔اب پھر میں توجہ دلاتا ہوں کہ جن لوگوں سے کام کرایا جائے گا وہ ابھی سے اپنے آپ کو پیش کر کے ان کاموں کی جن پر انہیں لگایا جائے گا مشق کریں۔اور ایسی مشقوں کو خلاف وقار نہ سمجھیں۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسے انسان نے اس قسم کے کام کئے تو ہمارا کیا ہرج ہے اور جو کام آئندہ کرنا ہوتا ہے اس کی مشق تماشا نہیں کہلاتی وہ در حقیقت ایک قسم کی تیاری ہوتی ہے۔پس کام کے لئے قبل از وقت مشق کرنی نہایت ضروری ہے۔مثلاً ایک بڑی جماعت سے بہت سے بوجھوں کے اٹھوانے کی مشق کرائی جائے اور ایسے کام جن کی ضرورت پیش آتی ہے ان کی مشق کرائی جائے۔دیکھو آگ بجھانے والوں سے آگ بجھانے کی اس طرح مشق کرائی جاتی ہے کہ مصنوعی مکان بنائے جاتے ہیں اور ان میں سامان رکھے جاتے ہیں پھر ان کو آگ لگا دی جاتی ہے جس کو انہوں نے بجھانا ہوتا ہے۔اور مال کو بچانا ہوتا ہے اس طرح اگر ان کو مشق نہ کرائی جائے تو وقت پر وہ گھبرا جائیں اور دیکھتے رہ جائیں۔پس ایسی مشقیں قومی زندگی کے آثار ہوتی ہیں۔جو شخص اپنے کاموں کو خلاف وقار سمجھتا ہے وہ کو نہ اندیش ہے۔