خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 23

23 5 دنیا اور آخرت کے دکھوں سے بچنے کا طریق فرموده ۲۳ / فروری ۱۹۲۳ء بمقام بھیرو پیچی) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔دنیا میں جتنے لوگ ہیں وہ سارے کے سارے اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ دکھ اور تکلیف سے بچ جائیں۔مسلمانوں کی ہی شرط نہیں غیر مسلمان بھی چاہتے ہیں کہ دکھ سے بچ جائیں۔عیسائی بھی ، ہندو بھی ، حتی کہ وہ لوگ بھی جو خدا کو نہیں مانتے۔وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ دکھ سے بچ جائیں۔اگر یہ خیال انسان کے دل میں نہ ہوتا تو مذہبوں کی گرم بازاری بھی دنیا میں نہ ملتی اتنے مذاہب جو دنیا میں پائے جاتے ہیں اور اتنے لوگ جو ان کے پھیلانے اور قائم رکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دکھ سے بچ جائیں اور چونکہ عام طور پر لوگوں کے دل میں خیال ہے کہ جسم کے ساتھ روح بھی ہے اور آئندہ بھی اس کی ہستی باقی رہے گی۔اس لئے انسان چاہتا ہے کہ وہ اگلے جہان میں بھی دکھ سے بچ جائے۔اس جہان میں وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور اگلے جہان کے لئے وہ مذہب کو اختیار کرتا ہے۔سو دکھ سے بچنے اور سکھ کے حاصل کرنے کی خواہش ہر وجود میں پائی جاتی ہے۔ہندو لوگ کیوں اپنے مذہب کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔کیوں لاکھوں روپیہ اس کی حفاظت پر خرچ کرتے ہیں۔بے شک تبلیغ سے ان کی ترقی نہیں ہوتی۔مگر ان میں لاکھوں لاکھ سادھو ہیں اور ان کا گزارہ دوسرے لوگوں کی آمدنیوں پر ہی ہے۔کیوں ہندو لوگ لاکھوں سادھوؤں کو سہارا دیتے ہیں۔اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے ان کا دین قائم رہے گا اور دین سے وہ دکھ سے بچ جائیں گے۔مسلمانوں میں بھی ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی ملا ہوگا۔اس کو سارا گاؤں خرچ دیتا ہے کیونکہ وہ مردوں کو نہلاتا ہے اور بعض رسوم جو چلی آتی ہیں ان کو بجا لاتا ہے۔کیوں وہ ایسا کرتے ہیں؟ اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مردوں کو اس سے آرام ہو گا۔یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں۔مگر خیال یہی ہوتا ہے کہ وہ دکھ سے بچ جائے گا۔کتنے گاؤں ہیں دنیا میں مسلمانوں کے اور کتنے لاکھ آدمی ہیں