خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 199

199 کہا کہ تجھے جنت کی بشارت ہو تو وہ کہنے لگا جنت کی نہیں جہنم کی بشارت دو کیونکہ میں دین کے لئے نہیں لڑا بلکہ اس قوم سے مجھے دشمنی تھی اور میں انتقام لینے کے لئے لڑتا رہا۔چونکہ اس کے اندر ایمان نہ تھا۔اور نہ دین کی خاطر لڑتے ہوئے زخمی ہوا تھا۔اس لئے زخموں کی تکلیف نہ برداشت کر سکا اور نیزہ گاڑ کر اور اس پر اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کر کے مرگیا اور اس طرح جہنم میں چلا گیا۔تو ایسے لوگ ہو سکتے ہیں کہ جو حمیت جاہلیت کی وجہ سے کام میں حصہ لیں لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں زیادہ تر وہی ہوتے ہیں جن کی ایسے وقت میں ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور تازگی کا وقت ہوتا ہے۔پس بہت ہی افسوس ہو گا ان لوگوں پر جنہوں نے اپنے بھائیوں کو جاتے ہوئے دیکھا مگر وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنے آپ کو پیش نہ کیا۔اس وقت ان قربانیوں کا یہ ثواب نہ ہو گا جس کا آج موقعہ ہے جبکہ احمدیت چاروں طرف پھیل جائے گی اور جبکہ قوت اور طاقت اس کے پیچھے ہو گی۔اس لئے اس وقت کو غنیمت سمجھو اور جو کچھ کما سکتے ہو۔کما لو۔بہت سا زمانہ ہماری غفلتوں اور سستیوں میں گذر گیا ہے۔اب جن لوگوں کو مسیح موعود کا نام پہنچے گا وہ کس قدر افسوس کریں گے اور ہم پر غصہ ہوں گے کہ کیوں انہوں نے ہمیں پہلے نہیں بتایا۔ابھی چند دن گزرے ہیں علی گڑھ کے ضلع سے کچھ لوگ آئے تھے۔جنہوں نے نہایت افسوس کا اظہار کیا کہ ہمیں مسیح موعود کا زمانہ نہیں ملا اور افسوس کہ ان کے زمانہ میں ہمیں کسی نے نہ بتایا کہ مسیح موعود آگئے ہیں۔ان کے دل میں مسیح موعود کی اس قدر محبت تھی کہ جب انہوں نے حضرت مسیح موعود کا ذکر سنا تو بار بار افسوس کرتے کہ ہمیں مسیح موعود کی زندگی میں ان کا پتہ نہ لگا اور اس وقت ان پر ایمان نہ لا سکے۔ایسے لوگ اگر مسیح موعود کا زمانہ پاتے تو کس قدر انہیں خوشی ہوتی۔پس کیسے افسوس کی بات ہے کہ اس قدر زمانہ غفلت میں گزر گیا اور ہم ہندوستان کے لوگوں کو بھی مسیح موعود کی آمد کی خبر نہ دے سکے۔ذرا تم اپنے متعلق ہی اندازہ لگاؤ تمہارے اندر مسیح موعود کی محبت ہوتی اور مسیح موعود مثلاً چین میں پیدا ہوتے اور تمہیں ان کے زمانہ میں کوئی نہ بتاتا بلکہ ان کے بعد کچھ لوگ تمہیں بتاتے تو کس قدر تمہیں ان پر رنج آتا۔غرضکہ ہماری اس کو تاہی اور غفلت کی وجہ سے بہت کچھ ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ہم نے یہ ذمہ داری سمجھ لی ہے کہ چند مبلغ جاکر تبلیغ کر چھوڑیں اور بس۔اس طرح سب کا فرض ادا ہو گیا۔اسی لئے میں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ جماعت کا ہر فرد تبلیغ کے لئے سال میں ایک ماہ باہر نکلے۔جب تک تمام کی تمام جماعت اس فرض کو اس طرح سے ادا نہ کرے گی تب تک کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔مجھے کتنی شرم آئی جبکہ ایک شخص نے مجھے لکھا کہ