خطبات محمود (جلد 8) — Page 198
198 حالات میرے پاس پیش کرتے اور میرے منہ سے نکلوانا چاہتے ہیں کہ میں انہیں کہدوں تم ابھی نہ جاؤ۔اور کئی لوگ ایسے ہیں جو جاتے تو ہیں لیکن افسردہ خاطر ہوتے ہیں۔ہاں ایک گروہ اور بڑا ایسا بھی ہے کہ جو خوش ہوتا ہے کہ انہیں خدمت دین کی توفیق ملی۔میں اپنے دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کام کوئی معمولی کام نہیں اس لئے اس کی اہمیت کو سمجھو اور اس کے لئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ کرو۔معمولی معمولی عذرات نہ پیش کرو۔وہ دوست جنہوں نے ابھی تک نام پیش نہیں کئے ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے موقعے بار بار نہیں آیا کرتے۔بے شک قربانیوں کے اور بھی زمانے آتے رہیں گے لیکن ایسی قربانیوں کے موقعے نہیں آئیں گے جو ان خلفاء کے زمانہ میں آتے ہیں جنہوں نے مسیح موعود کو دیکھا آپ سے تربیت پائی آپ کے صحابی کہلائے۔ان کے بعد تابعین کا زمانہ ہوگا اور اس وقت قربانیوں کا وہ ثواب نہیں ملے گا جو آج کی قربانیوں کا مل سکتا ہے۔اس لئے کہ ان کے لئے جو آسانیاں ہونگی وہ آج ہمارے لئے نہیں ہیں۔ہم اس وقت دین کے لئے اپنے مال گھروں سے نکالتے ہیں جب پیچھے کچھ بھی نہیں رہتا لیکن وہ لوگ اس وقت اپنے مال نکالیں گے جب کہ ان کے پاس باقی مال بھی بہت سا ہو گا۔پھر ہم اس وقت دین کی خدمت کے لئے نکلتے ہیں جبکہ ہمارے پیچھے کوئی نہیں ہوتا لیکن وہ لوگ اس وقت نکلیں گے جبکہ ایک آدمی اگر باہر نکلے گا تو ہزار آدمی اور اس کی جگہ موجود ہو گا۔پھر وہ ایسے وقت قربانیاں کریں گے جب ان کے خزانے مال و دولت سے پُر ہونگے اور ضرورت سے زیادہ ان کے پاس آدمی ہونگے۔مگر ہم اس وقت نکل رہے ہیں جب ہمارے پاس نہ خزانے ہیں نہ فوجیں ہیں نہ کافی آدمی ہیں تو اس وقت قربانیوں کی بہت ضرورت ہے اور ہماری اور ان کی قربانیوں میں بہت بڑا فرق ہے۔پس میں اپنے دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ستی کو چھوڑ دیں اور قربانی کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ یہ ایک خاص موقع ہے اس سے فائدہ نہ اٹھانا سخت غلطی اور نادانی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو بھی وہاں جائے گا وہ ضرور ایمان دار ہو گا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جاہلیت کی وجہ سے جائے جیسے نبی کریم کے زمانہ میں ایک شخص ایک جنگ میں بڑی شجاعت سے لڑ رہا تھا اور کئی لوگوں کو اس پر رشک آرہا تھا کہ نبی کریم نے فرمایا۔اگر کسی نے دنیا میں چلتا پھرتا جہنمی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے۔بعض صحابہ حیران ہوئے کہ یہ شخص جو کفار کے ساتھ لڑائی میں اس قدر ہلکان ہو رہا ہے یہ کیسے جہنمی ہو سکتا ہے اس خیال کا پیدا ہونا ایک صحابی کو ناگوار گزرا اور اس نے ارادہ کیا کہ جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق نہ کرلوں۔اس شخص کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔اس ارادہ سے وہ اس کے پیچھے لگ گیا۔آخر وہ زخمی ہو کر جب گرا اور لوگوں نے اسے