خطبات محمود (جلد 8) — Page 196
196 ہندوؤں سے مسلمان ہوئی ہیں ان کو پھر واپس لیا جائے۔اور اس کے لئے فی مسلمان ایک ہزار روپیہ تک خرچ کرنے کے لئے ہندو تیار ہیں۔ہندوستان میں ایسے مسلمانوں کی آبادی آٹھ کروڑ کے قریب ہے اور ایک ہزار فی آدمی خرچ کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ۸۰ ارب روپیہ مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے خرچ کیا جائے گا یہ وہ رقم ہے جسے انگریز قوم نے چھ سالہ جنگ میں دشمن کے مقابلہ میں خرچ کیا ہے۔مگر ہندو قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اتنی رقم خرچ کر کے مسلمانوں کو ہندو بنا لیا جائے۔اب ان لوگوں کے جو ارادے ہیں وہ اگر چہ ارادے ہی ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ارادے خدا کے ارادوں کے مقابلہ میں ہیں کیونکہ خدا کا تو یہ ارادہ ہے کہ یہ ہندو قوم جو مسلمانوں کو ہندو بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اسی کو اسلام میں لاکر ان کے ہی منہ سے کہلایا جائے کہ غلام احمد کی جے۔مگریہ زندہ اور کام کرنے والی قوم کے ارادے ہیں۔اس لئے ان کے ارادوں کو دیکھ کر ہمیں بھی پوری محنت اور طاقت سے کام کرنا پڑے گا۔مجھے تو ایسے ارادوں کو سننے سے خوشی پیدا ہوتی ہے کیونکہ اس قوم نے آخر مسلمان ہو کر ہم میں شامل ہوتا ہے اور ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا ہے اگر ان کی ہمتیں پست ہونگی تو ہمیں کیا مدد دے سکیں گے ہاں جب ان کے ایسے بلند ارادے ہونگے تو ضرور مفید ثابت ہونگے۔پس خدا کا منشاء تو ضرور پورا ہوتا ہے اور ہندو اسلام کے حلقہ بگوش ہونگے مگر میں نے با رہا بتایا ہے کہ یہ کوئی شرط نہیں کہ کس کے ہاتھ سے پورا ہو۔اس لئے ہمارا دل یہ چاہتا ہے کہ ہمارے ہی ہاتھوں سے خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ اور وعدہ پورا ہو لیکن ہم اگر کچھ نہ کریں گے اور کوئی اور قوم آکر دشمن کو پامال کرے گی تو ہمارے لئے کونسی خوشی ہوگی۔ہمارے لئے تو خوشی تب ہی ہے جب ہم دشمنوں کا مقابلہ کریں اور ہمارے ہاتھوں سے خدا تعالٰی کے وعدے پورے ہوں۔مگر مجھے افسوس آتا ہے کہ جن دوستوں نے کہا تھا کہ خواہ کچھ ہو ہم کام کریں گے اور اسلام کی حمایت کریں گے۔انہوں نے اس کام میں بہت کو تاہی کی ہے اور جس قدر حق تھا کام کرنے کا اس قدر کام نہیں کیا۔وہ مشورہ مشورہ نہیں ہوتا جب مشورہ دینے والا خود اس پر نہ چلے۔مگر مشورہ دینے والے بہت سے لوگوں نے اپنے اعمال سے یہ ثابت نہیں کیا کہ انہوں نے دوسروں میں جوش پیدا کرنے کے لئے اور اس کام کو جاری رکھنے کے لئے کوئی ممتاز کام کیا ہو۔پھر ان سے شکوہ کے علاوہ مجھے باقی جماعت سے بھی شکوہ ہے کہ لوگوں نے علاقہ ملکانہ میں جانے کے لئے نام لکھائے مگر جب ان کو علاقہ ارتداد میں جانے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے بہت چھوٹے چھوٹے عذر پیش کر دیئے اور بعضوں نے تو بعد میں مجھے لکھا کہ جو آپ نے خطبہ پڑھا ہے اگر ہمیں پہلے پتہ ہوتا کہ اس قسم کا خطبہ تم پڑھو گے تو ہم نام درج ہی نہ کراتے۔گویا انہوں نے پہلے نام لکھا کر ہم سے تمسخر کیا۔دیکھو ابھی جانوں کی قربانی کا وقت نہیں آیا۔لیکن ہماری آج کی قربانیوں سے