خطبات محمود (جلد 8) — Page 173
173 جنہوں نے بھاگ بھاگ کر جانیں بچائیں۔اور کچھ مدد نہ کی۔یورپیوں کو بھی چھوڑ دیا جو اپنی کو ٹھیوں میں بیٹھے رہے۔مگر احمدیوں سے جرمانہ وصول کر لیا۔جنہوں نے فسادیوں سے گالیاں سنیں۔ماریں کھائیں۔اور نقصان اٹھائے اور یہی نہیں کہ فساد سے الگ رہے بلکہ گورنمنٹ کی مدد کرتے رہے اور باوجود اس اقرار کے وصول کر لیا کہ احمدیوں نے اس موقع پر بہت اچھا کام کیا ہے۔اگر یہی انعام ہے تو کیا اسی کے لئے ہم گورنمنٹ کی خوشامد کرتے ہیں۔پھر دوسرے فوائد کے لحاظ سے دیکھے لو کہ ہماری جماعت گورنمنٹ سے کیا حاصل کر رہی ہے۔گورنمنٹ کی پالیسی ہی ایسی نظر آتی ہے کہ جو جتنا شور مچائے اور گالیاں دے۔اس سے اسی قدر زیادہ ڈرتی ہے۔ہمارے تجربات اور ظاہری حالات بتاتے ہیں کہ کوئی خاص سہولت تو الگ رہی ہماری ضروری درخواستوں پر بھی توجہ نہیں کی جاتی۔اس قادیان میں آکر غیر احمدیوں نے جلسے کئے صریح اور کھلے الفاظ میں کہا احمدیوں کو قتل کر دینا چاہیے اور ہمارے آقا اور ہادی کو جس کے لئے ہم اپنے جسم کا ذرہ ذرہ اڑانے اور اپنے خون کا ہر قطرہ بہانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔فاسق فاجر کہا۔اور گندی سے گندی گالیاں دیں۔پولیس اور مجسٹریٹ کی موجودگی میں دیں۔ہم نے اس کے متعلق گورنر کو تار بھی دیا۔چٹھیاں بھی لکھیں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر صاحب کو توجہ دلائی لیکن کسی نے کچھ بھی نہ کیا اور یہی کہا کہ جب فساد ہوگا دیکھا جائے گا۔گویا اگر احمدی فساد نہیں کرتے اور گالیاں سن کر خاموش رہتے ہیں تو ان کو گورنمنٹ کی مدد سے ناامید ہو جانا چا ہئیے۔جلسہ پر متعین مجسٹریٹ نے اور پولیس نے بھی کچھ نہ کیا۔اور مزے سے گالیاں سنتے رہے۔مجسٹریٹ صاحب تو محض اپنی عزت اور نیک نامی کے لئے کہ انہوں نے بہت اچھا انتظام کیا۔چپ چاپ بیٹھے رہے۔اور بالا افسروں نے اس لئے توجہ نہ کی کہ چھوٹی سی جماعت ہے اس کی آواز پر کیا توجہ کرنی ہے۔اگر اس کو کسی نے گالیاں دے دیں تو کیا ہوا؟ اس کے مقابلہ میں ہمارے اخباروں میں اگر کوئی مضمون جواب میں بھی چھپ جائے تو بھی گورنمنٹ جواب طلبی کے لئے تیار رہتی ہے کہ مولویوں یا آریوں کے متعلق یہ بات کیوں لکھی گئی۔پس گورنمنٹ ہماری ایسی تو دوست ہے کہ اگر کوئی مارنے کے لئے آئے اور ہم اپنا بچاؤ کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائیں تو ہاتھ پکڑلے اور کہدے جانے دو ورنہ اور کیا دوستی ہے۔عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے۔اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے لیکن جب وہاں حکومت قائم ہو گئی تو گورنمنٹ نے یہ شرط تو کروائی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں کوئی روک نہ ہوگی۔مگر احمدیوں کے لئے نہ صرف اس قسم کی کوئی شرط نہ رکھی بلکہ اگر احمدی اپنی تکالیف پیش کرتے ہیں تو بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی