خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 155

155 ہماری جماعت اگر ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سخت مجاہدات کر کے اپنے آپ کو جوانی کے مقام پر پہنچائے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ چھوٹی چھوٹی پابندیوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔حریت کا لفظ انہوں نے سنا ہوا ہے۔وہ سمجھتے ہیں اگر اب ہم نے اسے استعمال نہ کیا تو اور کس وقت کریں گے۔مگر ان کی حریت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے علاقہ ملکانہ سے ایک نے لکھا کہ ادھر تو احمدی ہیں ہی نہیں۔سب غیر احمدی اور ہندو ہیں۔میں حکم کے ماتحت یہاں ٹھہرا ہوا تو ہوں۔مگر خیال آتا ہے کہ قرآن کریم کا یہ حکم کہ لا تلقوا بايديكم الى التهلكة کس وقت کے لئے ہے۔اس کو اس حکم کا وہی موقع نظر آیا۔اس وقت ہماری جماعت جس حالت میں سے گزر رہی ہے اس میں اسے پابندیوں کی سخت ضرورت ہے۔پس میں اپنی جماعت کو یہی نصیحت کروں گا کہ اگر تم ترقی اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو۔تو تربیت کے ماتحت رہ کر ہی حاصل کر سکتے ہو۔جب تک پابندیوں کے لئے تیار نہ ہو گے اور جب تک احکام کے جوئے کے نیچے گردن نہ رکھ دو گے کچھ ترقی نہ کر سکو گے بے شک جوتا پہلے پہل بو جھل لگتا ہے۔مگر جب عادت ہو جائے تو پھر اس کا احساس بھی نہیں رہتا۔دیکھو بچوں کو بمشکل جوتی پہنائی جاتی ہے گھر میں بچوں کو جب جوتی پہناتے ہیں تو وہ پھینک کر باہر بھاگ جاتے ہیں۔اور جب زور دیا جائے تو ان کے چہرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے بڑی پابندی سمجھ رہے ہیں۔لیکن بڑے آدمی کو کہو کہ جوتی نہ پہنے تو وہ کہے گا یہ بد تہذیبی ہے۔اسی طرح نیک کام کا بھی جب انسان عادی ہو جاتا ہے تو پھر اسے اس کی پابندی گراں نہیں گزرتی۔حضرت مسیح کہتے ہیں موت کے لئے روح تو تیار ہے۔مگر جسم تیار نہیں۔کیوں اس کا عادی نہیں تھا۔چاہیے کہ ہماری جماعت کے افراد خواہ وہ قادیان میں رہتے ہوں یا باہر اپنے آپ کو ہر بات میں ہدایات اور قوانین کا پابند بنائیں اور اس کی ایسی عادت ڈالیں کہ ان کو قوانین معلوم ہی نہ ہوں۔دیکھو بچے ننگے پاؤں پھرتے ہیں مگر بڑے ہو کر نہیں چاہتے کہ جوتی نہ پہنیں۔بچے پڑھتے نہیں مگر بڑے ہو کر پڑھتے ہیں کیونکہ اسی میں فائدہ سمجھتے ہیں۔تمہاری یہی حالت ہو۔اور اب اگر ہدایات کی پابندی کی عادت ڈالو گے تو پھر ان کی پابندی کرنے میں کوئی تکلیف نہ ہوگی۔عادت تو بری بھی جس کو پڑ جاتی ہے وہ کرتا رہتا ہے۔پھر اگر نیکی کی عادت ڈالو گے تو وہ کیوں اچھی نہ لگے گی۔پس پورے طور پر قوائد کے فرمانبردار بن جاؤ اور اطاعت کی عادت ڈالو ورنہ یاد رکھو قطعا" ترقی نہ حاصل ہوگی۔قوانین کی پابندی چھوڑ کر نہ پہلے کسی قوم نے ترقی کی ہے نہ اب کر سکتی ہے۔اپنے اپنے زمانہ کی پابندیوں کو مد نظر رکھنے کی وجہ سے پہلے لوگوں نے ترقی کی۔اسی طرح تم کر سکتے ہو۔اللہ تعالٰی ہماری جماعت کو ان رستوں پر چلائے جو کامیابی کے رستے ہیں اور کامیابی کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہے ان کے سمجھنے اور ان پر عمل