خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 151

151 صرف کرنے سے پر ہیز کرتا ہے تو اس کی صحت کمزور ہو جاتی ہے اور مختلف قسم کے بوجھ اٹھانے کی طاقت اس میں پیدا نہیں ہوتی۔اسی طرح اب اگر غذا میں کھانے پینے میں پر ہیز نہیں کرتا تو اس کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے جس طرح جوانی میں اگر احتیاط کرتا تو نقصان ہوتا۔جو لوگ جوانی میں بہت پر ہیز کرتے ہیں۔وہ ادھیڑ عمر میں بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔تو جوانی کے بعد ادھیڑ عمر کا زمانہ آتا ہے اس میں ایک اور تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔جوانی میں اگر مجاہدات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ ترقی ہوتی ہے تو اب یہ ضرورت ہوتی ہے کہ انسان نفس کی طاقت کو قائم رکھے۔ورنہ نقصان پہنچتا ہے۔پھر انسان بوڑھا ہو جاتا ہے۔اس حالت میں ایک اور تغیر آتا ہے اور وہ یہ کہ پہلے تو پر ہیز کرنے کی ضرورت ہوتی تھی مگر اب قدرتی طور پر ایسے سامان پیدا ہو جاتے ہیں کہ اگر انسان بد پر ہیزی کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔دانت ٹوٹ جاتے ہیں نازک اور کام کرنے کی قوتیں ضائع ہو جاتی ہیں اور نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ عقلی اور روحانی حالت کے لحاظ سے بھی انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالی کی تائید اور نصرت ہی قائم رکھے تو رہ سکتا ہے۔اسی لئے جسمانی اور روحانی انسانوں میں فرق ہوتا ہے۔جسمانی انسان جتنے بوڑھے ہوتے ہیں اتنی ہی ان کی طاقتیں کمزور اور قابلیتیں زائل ہوتی جاتی ہیں لیکن جو روحانی انسان ہوتے ہیں ان کی طاقتوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے جسمانی انسان بڑھاپے میں علم بھی بھول جاتے ہیں اور وہ عالم نہیں رہتے۔لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔لیکن روحانی انسان جتنے بوڑھے ہوتے ہیں اتنی ہی زیادہ ان کے علوم میں ترقی ہوتی ہے اور وہ یوں دنیا کے لئے زیادہ نفع رساں ہوتے ہیں۔یورپ میں سائنس دان جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی وہ قدر نہیں رہتی جو جوانی کے ایام میں ہوتی ہے اور ان کے متعلق کہدیا جاتا ہے کہ یہ پرانے لوگ ہیں۔مگر نبی مجتنے بوڑھے ہوتے ہیں اتنے ہی زیادہ فیوض دنیا کو پہنچاتے ہیں۔حضرت سیح موعود ۷۴ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔گو آپ کی ابتدائی کتابیں بھی بے نظیر ہیں مگر پہلی اور آخری کتابوں میں وہی نسبت معلوم ہوتی ہے جو سورج کے مقابلہ میں ستاروں کو ہے۔میں نے بڑے بڑے مصنفوں کی کتابوں کے متعلق رائیں پڑھی ہیں اور مجھے شروع سے شوق رہا ہے کہ مصنفوں کے حالات پڑھوں۔میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے مصنفوں کی جتنی بڑی اور مشہور کتابیں ہیں وہ ان کے جوانی کے زمانہ کی لکھی ہوئی ہیں۔مگر نبیوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ سب سے آخری کتاب اس سے پہلی سے زیادہ شاندار ہوتی ہے اور اس سے پہلی اس سے پہلی سے۔یہ تو میں نے تغیرات کی موٹی موٹی باتیں بیان کی ہیں۔ورنہ ہر لمحہ اور ہر لہجہ میں تغیر ہوتا ہے اور اگر ان احتیاطوں کو مد نظر نہ رکھا جائے جو اس وقت ضروری ہوتی ہیں تو انسان ترقی نہیں پا سکتا۔