خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 141

141 تم خدا کے لئے اطاعت کرتے ہو تو ہر اس شخص کی کرو جو خدا کے لئے کام کرتا ہے اور اپنے نفس کو بالکل مٹا دو۔آپ لوگ اگر میرے کسی ہنر اور فن کی وجہ سے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں اور میں بچے طور پر کہتا ہوں کہ مجھے اپنے میں کوئی ایسا فن نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے لوگ میری اطاعت کریں اور ایسی کوئی چیز نہیں نظر آتی کہ اس جبہ کو اتار کر جو خلافت کا جبہ ہے اس چیز کے لئے کوئی ایک بھی میری اطاعت کرے۔میری اطاعت محض اس لئے کی جاتی ہے کہ خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے اور آپ لوگ خدا کے لئے میری اطاعت کرتے ہیں۔پس جب تم خدا تعالٰی کے ایسے فرمانبردار ہو تو جو بھی خدا کے لئے کسی کام پر کھڑا ہوتا ہے اس کی اطاعت کرو اور خوب یاد رکھو کہ کامل اطاعت کے بغیر کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس تم اپنے نفسوں کو بھول جاؤ اور اطاعت مجسم بن جاؤ۔تمہاری یہ حالت ہو کہ ایک وقت اگر کوئی گالیاں بھی دیتا ہے حتی کہ جوتیاں بھی مارتا ہے مگر پھر اسلام کے لئے بلاتا ہے اور غلاموں سے بد تر سلوک کرتا ہے تو سب کچھ برداشت کرو اور اطاعت سے منہ نہ موڑو اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تم اسلام میں نہیں ہو۔جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہ میں جنگ ہوئی تو ایک عیسائی بادشاہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حضرت علی پر حملہ کرنا چاہا اس کی خبر جب حضرت معاویہ کو ہوئی تو انہوں نے عیسائی بادشاہ کو کہلا بھیجا کہ اگر تم نے حملہ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علی کی طرف سے تمہارے مقابلہ پر آئے گا۔وہ معاویہ ہو گا۔اے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی ڈر گیا۔اگر حضرت علی اور معاویہ اتنی جنگ کے باوجود متفق ہو سکتے ہیں۔تو تم میں کونسے ایسے لوگ ہیں جن میں اتنا بڑا جھگڑا ہے۔تم میں کونسے دو کے درمیان اتنے حقوق کا جھگڑا ہے جتنے حقوق کا ان کے درمیان جھگڑا تھا۔تم میں سے کونسے دو ایسے ہیں جن کے درمیان خون کی ایسی نہریں جاری ہیں جیسی ان کے درمیان تھیں۔ان کے درمیان تو پیاروں کے خون اور ان کی ہڈیاں کھڑی کہہ رہی تھیں کہ نہ ملنا۔مگر جب خدا کا سوال پیدا ہوا تو علی اور معاویہ میں کوئی اختلاف نہ رہا۔اگر لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ دین کے معاملات میں آپس کے ہر قسم کے اختلافات کو دور کر دینا چاہئیے تو اول تو اختلاف پیدا ہی نہ ہوں اور اگر پیدا بھی ہوں تو ایسے ہوں جنہیں دین کے معاملہ میں چھپا سکیں۔ہر اختلاف جو پیدا ہوتا ہے اس کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔اول یہ کہ حکومت کی طرف رجوع کیا جائے۔دوسرے یہ کہ نہ کیا جائے۔اور اگر کوئی رجوع نہیں کرتا تو گویا معاف کر دیتا ہے اور معافی کے بعد اس کا ذکر نہیں ہونا چاہئیے۔لوگوں کو لوگوں سے تکلیفیں پہنچتی ہیں اور اعلیٰ درجہ کے لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کے لئے سوال ہو تو متفق ہو جانا چاہیے یہی وہ چیز ہے جو مسلم کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جس سے تم مسلم بن سکتے ہو اور جب