خطبات محمود (جلد 8) — Page 122
122 سے رنگ دیا۔تب ہاتھ آئیں۔پس بے شک وہ خدا تعالی کی طرف سے بات تھی اور اس نے ضرور پورا ہونا تھا۔مگر اس کے پورا ہونے کا ذریعہ انسانوں کو ہی بنایا گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کا جو یہ الہام ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یہ تبلیغ بھی انسانوں کے ذریعہ ہی زمین کے کناروں تک پہنچے گی۔اور جب تک ہماری جماعت اسی ایثار اور قربانی کو کام میں نہ لائے گی جو صحابہ نے دکھائی اور اسی طرح اپنی جانوں اور مالوں کو خدا کی راہ میں نہ لگا دے گی اس وقت تک پوری شان کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی پوری نہ ہوگی۔کامل طور پر یہ پیشگوئی تبھی پوری ہوگی جب کامل قربانیاں کی جائیں گی۔پس میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں کہ چونکہ تم نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے آثار دیکھ لئے اور تمہیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ ضرور پوری ہوگی۔اس لئے تم یہ بھی سمجھ سکتے ہو کہ اس کے لئے کتنی قربانی کرنی چاہئیے۔جب تک شبہ ہو کہ قربانی کا نتیجہ نکلے گا یا نہیں اس وقت تک اگر انسان قربانی کرنے سے ہچکچاتا ہے تو اور بات ہے مگر تم نے دیکھ لیا کہ تمہاری قربانی ضرور پھل لائے گی۔ایسی صورت میں اگر تم سنتی دکھاؤ۔تو تم پر بہت بڑا الزام عائد ہو گا۔پس چاہیے کہ ہماری جماعت اس پیشگوئی کو مکمل طور پر پورا کرنے کے لئے پوری کوشش سے کام لے۔خدا تعالٰی نے کسی حد تک اس کو پورا کر کے بتا دیا ہے کہ ضرور پوری ہوگی۔اس لئے اگر تم کو شش کرنے میں پیچھے رہے تو بہت بڑے الزام کے نیچے آؤ گے۔پس ہماری جماعت کا ہر ایک چھوٹا بڑا ، مرد، عورت، امیر غریب اس امر کے لئے کھڑا ہو جائے کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے۔تاہم اس کو پورا ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور فخر کریں اور جائز طور پر فخر کریں کہ خدا تعالی نے اس الہام کو ہمارے ہاتھ پر پورا کیا ہے۔الفضل ۶ جولائی ۱۹۲۳ء)۔۔۔