خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 121

121 یہ الہام کتنا چھوٹا سا فقرہ ہے اور کس وقت کہا گیا ہے۔اس وقت جبکہ زمین کے کنارے تو الگ رہے اس ضلع کے لوگ بھی آپ کو نہیں جانتے تھے۔پھر جب آپ نے دعوی کیا تو وہ دعویٰ کیا کہ ساری دنیا مخالف ہو گئی۔عیسائی، ہندو، سکھ، یہودی مسلمان، نئے تعلیم یافتہ یا پرانے علوم کے ماہر سب خلاف ہو گئے اور کوئی قوم ایسی نہیں کہ جس کے خلاف آپ کے دعوئی میں کوئی بات نہیں پائی جاتی۔غر منکہ کوئی مذہب کوئی قوم اور کسی خیال کے لوگ نہیں جن پر آپ کے دعوئی سے زد نہیں پڑتی۔یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا مخالف ہو گئی۔اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ الہام پورا ہو گا۔اس وقت تو اگر کوئی کچھ کہہ سکتا تھا تو یہ کہ اچھا ہوا۔ادھر تو دعوی کیا اور ادھر سر منڈاتے اولے پڑنے شروع ہو گئے۔اور یہ جھوٹ کی سزا ملی کہ ہر طرف سے مخالفت شروع ہو گئی ہے۔چونکہ بڑا بول تھا۔اس لئے جھٹ سزا مل گئی۔مگر نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ آپ کے خلاف آندھی پر آندھی آئی۔اور اس زور شور کے ساتھ آئی کہ دیکھنے والوں نے آنکھیں بند کرلیں اور خیال کیا کہ سب کچھ اڑا کر لے جائے گی۔لیکن جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ احمدیت کا پودا پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور سرسبز ہو گیا تھا۔اگرچہ ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ اس الہام کی پوری حقیقت ظاہر ہو اور یہ اپنی اصل شان میں پورا ہو۔مگر یہ تو سب نے دیکھ لیا کہ ہر ملک میں احمدیت کے بیج بو دئے گئے ہیں اور زمین کے کناروں تک احمدیت پہنچ چکی ہے۔دیکھو ہندوستان سے یہ پودا چلا اور دیکھنے والوں نے دیکھا اور آنکھوں والوں نے پہچانا کہ امریکہ تک پہنچ گیا۔دشمن یہ کہے تو کہے کہ میں احمدیت کو نہیں مانتا مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا یہ بات پوری نہیں ہوئی۔کیونکہ وہ صداقت اور نور جو قادیان سے نکلا مختلف ممالک میں پھیل گیا اور پھیل رہا ہے۔یہ اتنا بڑا عظیم الشان نشان ہے کہ اس پر نظر کر کے جس قدر بھی لذت اور سرور آئے تھوڑا ہے۔اس چھوٹے سے فقرے نے میرے سامنے اگر عجیب کیفیت پیدا کر دی اور میری آنکھوں کے سامنے وہ سارا نقشہ آگیا کہ کس حالت میں یہ کہا گیا اور پھر کس طرح پورا ہوا۔مگر میں اپنی جماعت سے کہتا ہوں جو الہام خدا تعالٰی کی طرف سے نازل ہوتا ہے اس کا بوجھ بندوں پر بھی رکھا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلیمہ کذاب اور اسود عنسی کے متعلق جو رویا دیکھی تھی، اس کو صحابہ نے ہی پورا کیا تھا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا کہ قیصر و کسری کے خزانہ کی کنجیاں آپ کو دی گئی ہیں۔کیا ان بادشاہوں نے خود ہی بھیج دی تھیں یا کوئی فرشتہ آیا تھا جس نے لا رکھی تھیں۔ایسا نہیں ہوا۔پھر کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے ہاتھ میں یونسی آگئیں۔نہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں نے گھروں سے بے وطن ہو کو جب کئی میدانوں کو اپنے خون۔