خطبات محمود (جلد 8) — Page 117
117 22 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کا پورا ہونا اور اس کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض (فرموده ۲۹ / جون ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔آنکھوں آج کا خطبہ جمعہ میں ایک ایسے امر کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں جو اتفاقا " آج میری۔کے سامنے آگیا۔جمعہ کے وقت سے تھوڑی دیر پہلے میں جو غسل کرنے کے لئے کمرہ میں داخل ہوا تو دروازہ بند کرتے ہوئے "الفضل" کا ایک ٹکڑا میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور وہ اس کا پہلا صفحہ تھا جو دروازہ کے اوپر چسپاں تھا۔اس کے اوپر ایک عبارت تھی جو خود بخود میری آنکھوں کے سامنے آگئی اور وہ یہ تھی کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا" (الهام مسیح موعود )۔یہ الهام ایک لمبے عرصہ تک الفضل" پر لکھا جاتا رہا ہے۔اور الفضل" ہفتہ میں دو بار میرے سامنے آتا رہا ہے اور میں اس لحاظ سے کہ سلسلہ کا آرگن سمجھا جاتا ہے اور اس لحاظ سے کہ چونکہ اس کے مضامین ہماری طرف سے سمجھے جاتے ہیں اور ہماری طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔اس لئے یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر کوئی غلطی ہو۔یوں تو انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر کوئی ایسی غلطی ہو جس سے سلسلہ پر حرف آتا ہو۔تو اس کی اصلاح کروادی جائے الفضل سارا پڑھتا ہوں اور ہمیشہ پڑھتا ہوں۔لیکن وہ پھٹا ہوا ٹکڑا جس پر میری نظر پڑی اس نے میرے اندر عجیب کیفیت پیدا کردی۔میں اس کو دیکھ کر اس کے پاس کھڑا ہو گیا اور اس فقرہ کو پھر پڑھا کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا" کتنا چھوٹا سا فقرہ ہے۔لیکن کیسی عظیم الشان بات اس میں بیان کی گئی ہے۔ایک ایسا شخص جس کا نام اس کے ارد گرد کے دیہات کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے اور جب جاننے لگے تو ایسی صورت میں کہ اس کے ساتھ چھونا بھی حرام سمجھتے تھے۔گویا جب تک وہ انسان دنیا کے سامنے نہیں آیا۔گمنام تھا۔اور جب سامنے آیا تو بدنام تھا۔لیکن وہ اس گمنامی کی حالت میں کہتا