خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 112

112 اجازت سے ایسا کرتے تھے۔تاکہ وہ روحانی موت سے بچے۔ہم ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور یہ ایک مقررہ وقت تک ہے یا جب تک ہندو چھوت چھات نہ چھوڑ دیں۔اگر مسلمان مسئلہ چھوت چھات کو مذہبی سوال بناتے ہیں تو وہ مذہب میں دست اندازی کرتے ہیں۔میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہر بات کو اس حد تک محدود رکھیں جہاں تک اس کا تعلق ہے۔شدھی وہاں ہو رہی ہے۔یہاں ہندو مسلمان ایک دوسرے کو مکانوں سے نکال رہے ہیں اور ایک دوسرے کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔میں بمبئی گیا وہاں ۱۵ دن تک مکان تلاش کرتے رہے۔پندرہ دن کے بعد ایک راجا کے دیوان کا مکان ملا۔اس نے وعدہ کیا کہ وہ جلدی مکان خالی کرا دے گا لیکن دوسرے دن جب اس کو کہا گیا تو اس نے اس بنا پر مکان دینے سے انکار کر دیا کہ دوسرے ہندوؤں نے اس کو منع کر دیا ہے کہ کسی مسلمان کو مکان نہ دیا جائے۔یہ جھگڑے تو آج شروع ہوئے ہیں لیکن ہندوؤں نے اس طرز عمل کو مدتوں سے جاری کر رکھا ہے۔مسلمان بہت زیادہ صاف ہوتے ہیں لیکن ہندو یہ بہانہ بنا لیتے ہیں کہ مسلمان مکان کو خراب کر دیتے ہیں۔کوئی جو اس حد سے نکلتا ہے اور دشمن کو اس سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے جتنا اس کو دشمن سے پہنچتا ہے۔وہ غلطی پر ہے۔اس طرح انسانیت باطل ہو جائے گی اور درندگی بڑھ جائے گی ہماری رحمت وسیع ہونی چاہئیے اور ہماری ناراضگی اور غضب محدود ہونا چاہئیے۔یہاں قادیان کے ہندوؤں نے ہمیں بہت تکلیفیں دی ہیں۔منارۃ المسیح کے متعلق مخالفت کی کہ منارہ نہیں ہونا چاہیے۔حالانکہ تمام مسجدوں پر منارے ہوتے ہیں۔منارہ کے مقدمہ کے متعلق یہاں تحصیل دار آئے۔یہاں کے لالہ بڑھے شاہ تحصیل دار کے پاس موجود تھے۔حضرت مسیح موعود نے تحصیل دار کو کہا۔تحصیل دار صاحب اس بڑھے شاہ سے پوچھئے کہ جب سے یہ پیدا ہوا ہے کونسی نیکی ہے جو میں نے اس سے نہیں کی اور کونسی برائی ہے جو اس نے مجھ سے نہیں کی۔بڑھے شاہ نے شرمندگی سے سر نیچے ڈال لیا۔حضرت خلیفہ المسیح اول نے یہاں کے ایک ہندو سے پوچھا کہ ہمارے یہاں آنے سے تمہیں کیا نقصان پہنچا؟ اس نے کہا کچھ نہیں بلکہ فائدہ ہوا ہے۔آپ نے فرمایا کہ پھر تم ہمیں کیوں نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتے ہو۔اس نے کہا کہ بس دل چاہتا ہے کہ آپ کو نقصان پہنچے۔پس ہمارا فرض ہے کہ جس حد تک کوئی ہم کو نقصان یا ضرر پہنچاتا ہے اسی حد تک اس کا مقابلہ کریں اور اس سے مقاطعہ کریں ورنہ اس حد کے با ہر وہ ہمارے بھائی ہیں۔ہندو کیا اس حد سے باہر چوڑھے بھی ہمارے بھائی ہیں۔ہم ایک آدم کی اولاد ہیں۔جس مقابلہ اور مقاطعہ تک اسلام کی حفاظت کا سوال ہے اس حد تک مقاطعہ کرو۔جس حد تک مقاطعہ میں اسلام کی حفاظت کا سوال نہیں اور ہمارے مذہب کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا اس حد تک اپنے ہاتھ کو نیکی اور حسن سلوک سے روکنا انسانیت نہیں بلکہ وحشت ہے۔میں اپنی جماعت کو