خطبات محمود (جلد 8) — Page 111
111 نے چھوت چھات کو مذہب کا جزو بنا لیا ہے۔اسلام میں چونکہ چھوت چھات نہیں ہے اس لئے مسلمانوں نے اس کو اختیار نہ کیا۔مگر چونکہ شریعت اس معالمہ میں چپ ہے اور کوئی خاص حکم نہیں دیتی۔اس لئے موقعہ محل کے مناسب ہم اسلام اور اپنی حفاظت کے لئے جو طریقہ حفاظت ہمیں ملے اس کو اختیار کر سکتے ہیں۔شریعت نے ہمیں حکم نہیں دیا کہ ہم غیروں کا نہ کھائیں۔مگر یہ بھی نہیں کہا کہ ہم ضرور ہی کھائیں۔اب چونکہ ہندو مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ شدھ ہونے والے ملکانے ہندوؤں کو معزز اور مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر ہندو ہو رہے ہیں اس لئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ بھی ہندوؤں سے چھوت چھات کریں تاکہ ہندو معزز اور مسلمان ذلیل نہ سمجھے جائیں اور تب تک ان کے ہاتھ کا نہ کھائیں جب تک موجودہ حالات بدل نہیں جاتے۔کیونکہ ہندوؤں کے ہاتھ کے کھانے کی ہمیں صرف اجازت ہے۔حکم کوئی نہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ مسلمان ہندوؤں کے ہاتھ کا نہ کھائیں۔نہ اس لئے کہ انما المشركون نجس (التوبہ : (۲۹) کے ماتحت وہ نجس ہیں۔مذہبی طور پر ان کے ساتھ چھوت چھات کرنے کا ہمیں حکم نہیں۔وہ ایسے ہی اہل کتاب ہیں جیسے یہودی اور عیسائی ہیں۔ان سے چھوت چھات شریعت کے حکم کے ماتحت نہیں بلکہ حالات سے مجبور ہو کر کی جاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے ہے کہ شریعت کا یہ حکم نہیں کہ امرود نہ کھاؤ۔مگر ہیضہ کے دنوں میں ہم امرود نہیں کھاتے۔اس وقت ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانے سے ایک قوم روحانی طور پر مرتی ہے۔اس لئے ہندوؤں کے ہاتھ کا کھانا چھوڑ دو۔نہ اس لئے کہ مذہب اس کا حکم دیتا ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس بات کو بھی بہت زیادہ بڑھا لیا گیا ہے۔مسلمانوں میں بعض جگہ یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اس کو مذہبی سوال بنالیں۔اور ہندوؤں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ مسلمان تو فساد کر رہے ہیں۔مگر عجیب بات ہے کہ ہندو سینکڑوں سالوں تک مسلمانوں سے چھوت چھات کر کے تو فسادی نہیں لیکن اگر مسلمان ایک قوم کو روحانی موت سے بچانے کے لئے چھوت چھات اختیار کریں تو وہ فسادی ہیں۔یہ غلط ہے اور حقیقت میں دونوں غلطی پر ہیں۔ان اختلافات کے ہوتے ہوئے ہم ان سے اتحاد کر سکتے ہیں اور مدتوں ہم سے چھوت چھات کرنے کے باوجود ہم نے ان سے اتحاد رکھا ہے۔لیکن جب ہم اس وقت ایک قومی مجبوری سے مجبور ہو کر ایسا کرنے لگے ہیں تو وہ کیوں ہم کو فسادی اور اپنا دشمن اور اتحاد شکن سمجھتے ہیں۔یہ اسی تنگ دلی کا نتیجہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کی غرض کو نہیں سوچتا۔پہلے مسلمانوں کا ہم سے لڑنا یہ ان کی غلطی تھی۔اب ہندوؤں کا مسلمانوں سے چھوت چھات کے متعلق لڑنا اور مسلمانوں کا اس سوال کو مذہبی سوال بنانا غلطی ہے۔اس وقت چھوت چھات کا سوال نہیں۔حقیقت میں ایک قوم کی موت کا سوال ہے۔اس قوم کو بتانے کے لئے کہ ہم ذلیل نہیں بلکہ ہم صرف مذہبی