خطبات محمود (جلد 8) — Page 11
3 خدمت و قربانی کا خاص وقت (فرموده ۲۶ / جنوری ۱۹۲۳ء) سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں نے بارہا اپنے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت کے اہم ترین فرائض میں سے ایک فرض اس حق اور راستی کی اشاعت ہے۔جسے پھیلانے کا اس وقت اللہ تعالیٰ کی پاک ذات نے ارادہ کیا ہے۔خدا تعالیٰ کے ارادہ اور منشاء کے رستہ میں کوئی چیز روک تو نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالٰی کے منشاء کے پورا ہونے میں جو چیز بھی حائل ہوگی وہ ضرور کچلی اور پیسی جائے گی۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام ارادوں کو پورا کرنے کے لئے قانون جاری کیا ہوا ہے۔کوئی وجود دنیا میں ایسا نہیں جو خدا کے ارادوں میں روک ڈال سکے یا ان کے لئے قیود مقرر کر سکے۔مگر وہ ذات خود اپنے ارادوں کے لئے شرائط مقرر کرتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے تمام ارادوں کے لئے ایک قانون ہے جو یہ ہے کہ ہر ارادہ کے پورا ہونے کا ایک وقت اور ایک ساعت مقرر ہے۔بے شک اللہ تعالی چاہتا تو زمین میں گیسوں کا دانا ڈالتے ہی کھیت اُگا دیتا۔اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو ماں باپ کے ملنے اور نطفہ قرار پانے کے وقت ہی بچہ پیدا کر دیتا۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو آم کی گٹھلی زمین میں دباتے ہی آم کا بنو مند درخت پیدا کر دیتا اور اسی وقت اس کے ساتھ آم بھی لگ جاتے۔اگر اللہ تعالی چاہتا تو زمین کی کانیں ایک لحظہ میں تیار کر دیتا۔مگر خدا تعالٰی نے یہ چاہا نہیں۔خدا تعالیٰ نے یہی چاہا کہ ایک عرصہ کے بعد گندم تیار ہو۔ایک عرصہ کے بعد بچہ پیدا ہو۔ایک مدت کے بعد آم کا درخت تیار ہو۔اور لاکھوں سالوں کے بعد کانیں بنیں۔تو گو اللہ تعالی کی طاقت اور قدرت ہے کہ کام فورا کرے۔مگر کرتا نہیں۔اس میں بڑی بڑی عظمتیں ہیں۔جن میں سے بعض ہستی باری تعالٰی کے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں۔مگر اس جگہ چونکہ ان حکمتوں کا مضمون سے تعلق نہیں اس لئے بیان نہیں کروں گا بلکہ صرف یہ بتاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء اور ارادہ پورا کرنے کے لئے وقت مقرر ہوتا ہے۔اس وقت میں درمیانی روکیں آئیں۔عرصہ لگے۔وقفہ ہو۔تو یہ اس