خطبات محمود (جلد 8) — Page 104
104 نہیں ظاہر کرتی تو اس کے یہ معنے نہیں کہ کونین مفید نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بخار کی صحیح تشخیص نہیں ہوئی۔غرض اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں صداقت نظر آتی ہے۔اس کا دنیا کو فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ اس سے انتظام صحیح چلتا ہے۔اگر یہ بات نہ ہو تو انتظام بگڑ جائے۔اگر آگ ہمیشہ جلانے کی بجائے کبھی ٹھنڈا بھی کرتی تو بہت مشکل پڑتی۔مثلاً آگ کے ذریعہ روٹی پکتی ہے۔اگر کبھی ایسا ہو تا کہ روٹی پکنے کی بجائے پانی ہو کر بہ جاتی تو کس طرح مشکل پڑتی۔آج جس طرح ایک جاہل سے بھی جاہل روٹی یقین سے پکاتا ہے اس وقت یہ یقین اٹھ جاتا۔اسی طرح پانی پیاس بجھاتا ہے۔اگر یہ ہوتا کہ کبھی پیاس بڑھا بھی دیتا۔ٹھنڈ پہنچانے کی بجائے آگ لگا تا تو تمام دنیا کا کام درہم برہم ہو جاتا۔ہمیں اس قانون سے فائدہ یہ ہے کہ ہر ایک چیز اپنے کام میں ہے۔اگر وہ چیز اپنا کام چھوڑ دے تو نتیجہ خراب پیدا ہو گا۔عورت آٹا گوندھتی ہے اس کو یقین ہے کہ جب آئے میں پانی ڈالا جائے گا تو وہ گوندھا جائے گا۔لیکن اگر اس کا یہ یقین اٹھ جائے اور اس کو معلوم ہو کہ آٹا پانی ملنے سے کبھی آگ بھی بن جایا کرتا ہے تو وہ کب گوندھنے کی کوشش کرے گی۔یا اگر پانی کے متعلق یہ معلوم ہو کہ کبھی پیاس بجھانے کی بجائے پیاس کو اور بھڑکاتا اور انتڑیوں کو کاٹ ڈالتا ہے تو کون ہے جو اس کو پینے کی جرات کرے گا۔پس معلوم ہوا کہ تمام مخلوق میں یہ قانون ہے کہ ہر چیز اپنی حدود کے اندر ہے اور وہی کام کرتی ہے۔جو قدرت نے اسے سپرد کیا ہے۔مگر انسان کو کیوں خرابی حاصل ہوتی ہے اس لئے کہ یہ اس طریق کو چھوڑ دیتا ہے۔مثلاً تاجروں کا دیوالہ کیوں لکھتا ہے اس لئے کہ لوگ ادھار لیتے ہیں اور وقت مقررہ پر نہیں دیتے اس لئے سوداگر کا دیوالہ نکل جاتا ہے۔گورنمنٹ کمزور کیوں ہو جاتی ہے اس لئے کہ اس کو ٹیکس وصول نہیں ہوتا۔رعایا کیوں کمزور ہوتی ہے اس لئے کہ حکومت ان کی ضروریات پوری نہیں کرتی۔دوسرے کام کیوں خراب ہوتے ہیں کہ افسر اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتے اور ماتحت اپنے کام میں غفلت کرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومتیں مٹ جاتی ہیں۔لیکن جب تک ہر ایک شخص اسی قانون پر عمل نہ کرے جو قانون عام نظر آتا ہے کہ ہر ایک چیز اپنا فرض ادا کرے تو کوئی کام درست نہیں ہو سکتا۔جب ہر ایک شخص اپنا فرض ادا کرتا ہے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوتا ہے۔اللہ کے فرمانبردار بندے کبھی اپنے عہد سے غافل نہیں ہوتے۔جو شخص اپنے عمد بیعت پر قائم ہو وہ ہلاک نہیں ہوتا۔دنیا میں ہر ایک سچا سلسلہ ایک شخص سے چلا ہے۔جو شخص خدا سے اقرار کرتا اور اس کو نبھاتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے اقرار کیا اور پھر اس عہد کو نبھایا۔