خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 103

103 19 عہد کی پابندی کی اہمیت ان (فرموده ۸ / جون ۱۹۲۳ء) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی صنعت اور خلقت کی طرف دیکھیں تو ایک عجیب قاعدہ نظر آتا ہے۔قاعدہ پر غور کرنے سے بہت سے سبق ملتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ جتنی مخلوق ہے وہ سچ بولنے کی عادی ہے۔راہ راست پر جا رہی ہے۔جھوٹ نہیں بولتی۔مخلوق سے مراد وہ مخلوق نہیں جو کلام کرتی ہے بلکہ وہ جو انسان نہیں۔نہ سچ سے مراد وہ سچ ہے جسے عرف عام میں ہم سچ کہتے ہیں بلکہ مخلوق سے مراد بے جان مخلوق ہے اور سچائی سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک رنگ پر چلتی ہے۔دھوکہ نہیں دیتی۔مثلاً آگ ہے وہ جلاتی ہے۔لکڑی کا ایک گھڑ لاؤ۔یا کسی اور جلانے والی چیز کا۔اس کو جلا ڈالے گی۔اور لاؤ اور اس پر ڈال دو وہ بھی جل جائے گا۔تیسرا گٹھا لاؤ وہ بھی جل جائے گا اور آگ میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو بجھا دے گا اور تمام پانی یہی فعل کریں گے۔تمام آگیں ایک ہی کام کریں گی۔گرمی ایک کام کرتی ہے اور سردی اپنا ایک کام کرتی ہے۔غرض ہر ایک چیز ایک دفعہ اپنی جو حقیقت ظاہر کرتی ہے وہ حقیقت بدلتی نہیں۔سردی انجماد پیدا کرتی ہے اور گرمی سے اشیاء پھیلتی ہیں۔بیش ایک قسم کا زہر ہے۔بیش نر تریاق ہے۔جس کو ہمارے ہاں جدوار کہتے ہیں۔بعض زہروں میں اس کا دینا زہر کی مضرت کو دور کرتا ہے۔یہ تو ممکن ہے کہ ہم ان زہروں کی شناخت میں دھو کہ کھا جائیں لیکن یہ نہیں کہ اس کا اثر نہ ہو۔اگر صحیح طور پر دیا جائے مثلاً تصویر پر جو آگ بنائی گئی ہو۔اس پر اگر پانی ڈالا جائے گا تو آگ نہیں بجھے گی۔البتہ وہ تصویر خراب ہو جائے گی۔اس سے ثابت ہوا کہ پانی کی تاثیر تو موجود ہے مگر اس کا محل استعمال غلط ہو گیا۔اسی طرح نرمیش کا اگر فائدہ نہ ہو تو اس کے یہ معنے نہیں کہ اس سے فائدہ نہیں ہو تا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس زہر میں نہ دیا جس میں اس کا دیا جانا مفید ہوتا ہے۔یا مثلا کو نین بعض قسم کے بخاروں میں مفید ہوتی ہے۔ہر ایک بخار میں نہیں۔جس میں فائدہ کرتی ہے اس میں مفید ہوتی ہے۔اگر کو نین کسی بخار میں فائدہ۔