خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 100

100 مند انسان اپنا کام کرنے والے کو نہیں چھوڑتا۔پھر خدا کیسے چھوڑ سکتا ہے۔پس جب ہم خدا کے لئے نکلے ہیں اور ہماری غرض اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا اس کی عبودیت میں آجائے تو ہم امید نہیں بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں نہیں چھوڑے گا اور ہمیں ناکام نہیں کرے گا۔ہماری جماعت کے سوچنے کا یہ سوال نہیں کہ یہ کام کب ختم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ وہ سوچیں کہ ان کو مزید کام کب ملے گا۔ہاں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے سامنے جو کام آیا ہے اس میں سے کتنے کو ہم اٹھا سکتے ہیں۔اس وقت کام ایک خاص صورت اختیار کر رہا ہے۔ہمیں صرف آریوں ہی سے مقابلہ نہیں علماء سے بھی ہے کہ انہوں نے آریوں کو چھوڑ کر ہمارا مقابلہ ضروری خیال کیا ہے۔وہ کہتے ہیں آریہ ہونا، چوہڑے چمار ہونا بہتر ہے بہ نسبت احمدی ہونے کے۔یہ لوگ ہیں جو ملکانوں کو تبلیغ کرنے گئے ہیں۔ہمارے میں سے بعض لوگ گھبراتے ہیں مگر میں ان کو بشارت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفین ہمارے راستہ میں روک نہیں ہونگے۔میں نے ایک رویا میں دیکھا ہے اور میرے گھر والوں نے بھی دیکھا ہے کہ ملکانوں کی طرف سے خوشبو آرہی ہے اور ادھر سے خوشی کی آوازیں آرہی ہیں۔میں نے سمجھا کہ پہلے افسوس کی خبر آئے گی اور اس کے بعد خوشی کی خبریں بھی ملیں گی۔اسپار مرتد ہوا۔ان کے مرتد ہونے سے افسوس ہوا۔لیکن مجھے اطلاع دی گئی کہ اس گاؤں کو چھوڑنا نہیں۔استقلال رکھنا یہ لوٹیں گے۔شرط یہ ہے کہ قربانی کرنی چاہئیے۔انشاء اللہ اور بھی آئیں گے۔چودہری فتح محمد صاحب ابھی واپس نہیں گئے تھے کہ میں نے ان کو رویا سنا دی تھی۔یہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے کہ ابھی چند ہی دن گزرے ہیں کہ چودہری صاحب واپس گئے ہیں اور آج اطلاع ملی ہے کہ موضع چارلی گنج سارا اور اکرن کے ۳۲ گھر دوبارہ داخل اسلام ہوئے ہیں۔اس یہ وہ مقام ہے جہاں کے ہندو افسران نے پہلے ہمارے مبلغین کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ نکل جاؤ۔ورنہ آوارہ گردی میں تم پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ہماری جماعت خدا کے فضل سے گھبرانے والی نہیں کیونکہ ہم لوگ قانون کے مخالف کوئی کام نہیں کرتے۔اس لئے تھانے دار کے فعل کے خلاف پروٹیسٹ کیا گیا اور ریاست کے دیوان کے پاس وفد گیا۔اس نے اس کے متعلق یقین دلایا کہ تھانے دار سے باز پرس ہوگی۔اکرن کو ایک اور خاص خصوصیت حاصل تھی۔وہ یہ کہ سارا گاؤں مرتد ہو گیا تھا۔مگر ایک ۸۰ سالہ بڑھیا مسلمان رہی تھی۔سارے گاؤں نے اس پر ظلم کیا۔بیٹوں تک نے بائیکاٹ کیا۔چنانچہ اس کی فصل تک کاٹنے نہیں دیتے تھے۔ہم نے تیاری کرلی کہ اس کی فصل ہمارے مبلغ کاٹیں۔یا